ٹیکنالوجی کے ماہر اور ٹیسلا و اسپیس ایکس کے CEO ایلون مسک نے حال ہی میں نکھل کامتھ کے ساتھ ایک گفتگو میں کہا کہ مصنوعی ذہانت (AI) کی تیز رفتار ترقی کی وجہ سے مستقبل میں کام کرنا اختیاری ہو سکتا ہے۔
ایلون مسک کے مطابق AI اور مشین لرننگ کے ذریعے وہ تمام کام جو انسانی محنت پر انحصار کرتے ہیں، اب مشینیں انجام دے سکتی ہیں۔ اس تبدیلی کے نتیجے میں انسانوں کے لیے ضروری نہیں کہ وہ روزانہ نوکری یا روایتی ملازمتوں میں محنت کریں، کیونکہ AI زیادہ تر کام خودکار طور پر سنبھال لے گی۔
مسک نے مزید کہا کہ اس دور میں حکومتوں اور معاشروں کو بنیادی آمدنی (Universal Basic Income) جیسے اقدامات پر غور کرنا ہوگا تاکہ لوگ بغیر کام کے بھی اپنے معیارِ زندگی کو برقرار رکھ سکیں۔ AI کے بڑھتے اثرات نہ صرف صنعتی اور تجارتی شعبوں میں انقلاب لائیں گے بلکہ روزمرہ زندگی، تعلیم، اور صحت کے شعبوں میں بھی انسان کی محنت کی ضرورت کو کم کر دیں گے۔
نکھل کامتھ کے ساتھ گفتگو میں مسک نے خبردار کیا کہ اگر AI کے فوائد کو صحیح طریقے سے نہیں استعمال کیا گیا تو یہ سماجی اور اقتصادی ناہمواریوں کو بڑھا سکتی ہے۔ تاہم، اگر صحیح پالیسی اور تکنیکی رہنمائی کی جائے تو AI انسانوں کے لیے آزادی اور تخلیقی مواقع کا دروازہ بھی کھول سکتی ہے۔
یہ پیشگوئی ٹیکنالوجی کی دنیا میں ایک بڑی بحث کا حصہ بن گئی ہے، جس میں ماہرین اور سرمایہ کار مستقبل میں AI کے معاشرتی اثرات پر غور کر رہے ہیں۔ہم سے رابطہ کریں
