سری لنکا میں شدید بارشوں، تباہ کن سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ کے باعث ہلاکتوں کی تعداد بڑھ کر 410 تک پہنچ گئی ہے جبکہ 336 افراد تاحال لاپتہ ہیں۔ غیر ملکی خبر رساں اداروں کے مطابق یہ ہولناک صورتحال 2004 کے سونامی کے بعد سری لنکا کی بدترین قدرتی آفت قرار دی جا رہی ہے۔
ڈیزاسٹر مینجمنٹ سینٹر کے مطابق ملک بھر میں 15 لاکھ سے زائد افراد متاثر ہوئے ہیں، جن میں سب سے زیادہ نقصان کانڈی ریجن میں ہوا جہاں 88 افراد جان سے گئے اور 150 سے زائد افراد لاپتہ ہیں۔
حکام کا کہنا ہے کہ امدادی سرگرمیوں کو مزید تیز کر دیا گیا ہے۔ فوج، پولیس اور ریسکیو ادارے شدید متاثرہ علاقوں میں پھنسے لوگوں تک پہنچنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ متعدد علاقوں میں سڑکوں کی بحالی، پلوں کی مرمت، مواصلاتی نظام کی بحالی اور سیلاب متاثرین کے لیے عارضی پناہ گاہوں کا قیام بھی جاری ہے۔ انتظامیہ کے مطابق اب تک 20 ہزار سے زائد متاثرہ افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا جا چکا ہے۔
سری لنکا میں تباہی کے اس منظرنامے نے ملک بھر میں خوف و ہراس کی کیفیت پیدا کر دی ہے، جبکہ مزید بارشوں کی پیشگوئی نے حالات کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔
