file photo

بارڈر پر تناؤ برقرار، افغان حکام نے چار ہلاکتوں کی اطلاع دی

پاک–افغان سرحد ایک بار پھر کشیدگی کا شکار ہے، کیونکہ افغانستان کے سرکاری حکام نے دعویٰ کیا ہے کہ سرحدی پٹی میں پاکستانی فورسز کے ساتھ شدید فائرنگ کے تبادلے کے دوران چار افراد ہلاک ہوئے۔ افغان حکام کا کہنا ہے کہ جھڑپ اس وقت شروع ہوئی جب دونوں جانب سے فورسز نے ایک دوسرے کی پوزیشنوں پر فائرنگ کی، جس سے مقامی آبادی میں خوف و ہراس پھیل گیا۔

یہ واقعہ ایسے وقت میں پیش آیا ہے جب دونوں ممالک پہلے ہی سرحدی سیکیورٹی اور نقل و حرکت سے متعلق متعدد تنازعات کا سامنا کر رہے ہیں۔ افغانستان کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ہلاک ہونے والوں میں سیکیورٹی اہلکار اور شہری دونوں شامل ہو سکتے ہیں، تاہم اس بارے میں تفصیلات اب تک سامنے نہیں آئیں۔

پاکستانی حکام کی جانب سے واقعے پر فوری ردعمل سامنے نہیں آیا، لیکن ماضی میں پاکستان کا مؤقف رہا ہے کہ سرحد پار سے ہونے والی فائرنگ اکثر بلااشتعال ہوتی ہے، جس کا جواب دینا ضروری ہو جاتا ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق دونوں ممالک کے درمیان مؤثر رابطے اور مشترکہ سرحدی میکانزم کی کمی اس طرح کے واقعات میں اضافے کا باعث بنتی ہے۔

سرحدی جھڑپوں کا براہِ راست اثر مقامی باشندوں، تجارتی سرگرمیوں اور انسانی امداد کی ترسیل پر پڑتا ہے۔ ماہرین خبردار کر رہے ہیں کہ اگر دونوں ممالک سفارتی سطح پر صورتحال کو قابو میں نہ لائے تو خطے میں کشیدگی مزید بڑھ سکتی ہے۔

امن و استحکام کے لیے ضروری ہے کہ پاکستان اور افغانستان مذاکرات کا راستہ اپنائیں، مشترکہ نگرانی کے نظام کو مضبوط کریں اور سرحدی واقعات کے حل کے لیے شفاف مکینزم ترتیب دیں۔

سٹا ر نیوز لائیو

اپنا تبصرہ بھیجیں

14 − three =