عدالت نے عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کو توشہ خانہ کیس میں 14 ، 14 سال قید کی سزا سنائی جس کے بعد جب سابق خاتون اول گرفتاری دینے کیلئے اڈیالہ جیل پہنچی لیکن ہر کوئی اس وقت حیران رہ گیا جب انہیں بنی گالہ میں ہی قید کر نے کا فیصلہ کیا گیا ۔نجی ٹی وی نے ذرائع سے دعویٰ کیاہے کہ گزشتہ رات کی پیشرفت بشریٰ بی بی کے حال ہی میں کیے گئے رابطوں کا نتیجہ تھی،یہ پہلا قدم تھا اور اگر حالات پرسکون انداز سے آگے بڑھے تو دوسرا قدم اٹھایا جائے گا تاہم، عمران خان اور بشریٰ بی بی نے اس بات سے انکار کیا ہے کہ انہوں نے کوئی ڈیل کی ہے یا پھر انہوں نے عمران خان کی اہلیہ کیلئے بنی گالا کے آپشن کی درخواست کی تھی۔بشریٰ بی بی کیلئے یہ کام کس نے کیا اور کس کے احکامات پر حکام نے بنی گالا کو سب جیل قرار دیکر وہاں بشریٰ بی بی کو منتقل کیا۔ یہ وہ سوالات ہیں جن کا جواب ملنا ابھی باقی ہے۔ تاہم یہ کام کابینہ کے وزراء بشمول وزیر داخلہ گوہر اعجاز کا نہیں ہے، اس بارے میں ان میں سے زیادہ تر کو ملک کے عام شہریوں کی طرح میڈیا کے ذریعے ہی صورتحال کا پتہ چلا۔نگراں وزیر داخلہ گوہر اعجاز نے رابطہ کرنے پر تصدیق کی کہ ان سے ایسا کوئی مشورہ لیا گیا اور نہ انہیں معلوم ہے کہ کس کے حکم پر ایسا کیا گیا۔ دی نیوز نے نگراں وزیراعظم انوار الحق کاکڑ سے بھی رابطہ کرکے پہیلی سلجھانے کی کوشش کی لیکن انہوں نے سوال کا جواب نہیں دیا۔اڈیالہ جیل میں عدت کیس کی سماعت کے دوران عمران خان اور بشریٰ بی بی نے جمعرات کو صحافیوں کو بتایا تھا کہ بشریٰ بی بی کو بنی گالا منتقل کر دیا گیا ہے حالانکہ ان کی طرف سے ایسی کوئی درخواست نہیں کی گئی۔ نجی ٹی وی نے ذرائع سے دعویٰ کیا ہے کہ عمران خان اور بشریٰ بی بی کا کہنا تھا کہ انہوں نے ایسی کوئی درخواست نہیں دی تھی کہ بشریٰ بی بی کو بنی گالا منتقل کرکے اسے سب جیل قرار دیا جائے۔ انہوں نے مزید کہا کہ عمران خان نے صحافیوں کو بتایا کہ انہیں تو اس بارے میں جمعرات کی صبح پتہ چلا ہے۔ عمران خان کا کہنا تھا کہ گزشتہ رات انہوں نے بشریٰ بی بی کیلئے کمبل بھجوایا تھا۔انہوں نے کہا کہ جس وقت پی ٹی آئی کی خواتین 9 مئی کے واقعات کی وجہ سے جیلوں میں ہیں اس وقت ہم ایسی درخواست کیسے کر سکتے ہیں۔ اسد ملک کا کہنا تھا کہ بشریٰ بی بی نے اعتراف کیا کہ بالواسطہ ان سے رابطے ہوئے ہیں لیکن وہ اور عمران خان اپنے موقف میں واضح تھے کہ وہ کوئی ڈیل نہیں کریں گے۔اسلام آباد کے چیف کمشنر نے بنی گالا میں مجرم بشریٰ بی بی کی رہائش گاہ کو اگلے احکامات تک سب جیل قرار دینے کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا۔ نوٹیفکیشن میں کہا گیا کہ ’’چیف کمشنر اسلام آباد کیپٹل ٹیریٹری مجرم بشریٰ بی بی (رہائشی کمپاؤنڈ، خان ہاؤس بنی گالا، موہڑہ نور، اسلام آباد) کی رہائش گاہ کو اگلے احکامات تک سب جیل قرار دیتے ہیں۔‘‘
