چین نے ابتدائی طور پر قیمت میں اضافے کا مطالبہ کیا تھا تاہم اب اس نے حالیہ شرائط پر پاکستان کا 2ارب ڈالر کا قرض رول اوور کرنے پر ر ضامندی ظاہر کردی ہے۔ وزارت خزانہ نے بتایا کہ چین کے ساتھ 23مارچ کو ادا کئے جانے والے 2 بلین ڈالرز کی ادائیگی کی مدت میں مزید توسیع پر مفاہمت ہوگئی ہے۔ اس حوالے سے چین کے سفارتخانے کے جواب کا انتظار ہے۔ اس وقت پاکستان اس قرض پر 7.1فیصد کی شرح سے ادائیگی کر رہا ہے۔حکام نے بتایا کہ چین نے غیر رسمی طور پر قرض رول اوور پر رضامندی ظاہر کردی ہے اور اب وزارت خزانہ باضابطہ جواب کا انتظار کر رہی ہے۔واضح رہے پاکستان نے گزشتہ مالی سال چین، سعودی عرب اور امارات کو 26.6ارب روپے سود کی مد میں ادا کئے ہیں، یہ ادائیگیاں ان تین ملکوں کی جانب سے سٹیٹ بینک میں رکھے گئے 9ارب ڈالر کی بنا پر کی گئی ہیں۔ اس سے ایک سال قبل پاکستان نے اس مد میں ادائیگی 12.2ارب روپے کی تھی۔ اس طرح سود کی لاگت میں 118فیصد اضافہ ہوگیا۔
