سائفر کیس میں بانی پی ٹی آئی اور شاہ محمود قریشی کی درخوست ضمانت پر وکیل سلمان صفدر نے دلائل دیتے ہوئے کہاکہ وزارت خارجہ سے سائفر اعظم خان کو بطور پرنسپل سیکرٹری موصول ہوا تھا،جس میٹنگ میں سائفر سازش منصوبہ بندی کا الزام ہے وہ 28مارچ 2022 کو ہوئی،چالان کے مطابق جس جلسے میں سائفر لہرانے کا الزام ہے وہ 27مارچ 2022کو ہوا تھا۔نجی ٹی وی چینل کے مطابق سپریم کورٹ میں سائفر کیس میں بانی پی ٹی آئی اور شاہ محمود قریشی کی درخوست ضمانت پر سماعت ہوئی،قائم مقام چیف جسٹس پاکستان سردار طارق مسعود کی سربراہی میں 3رکنی بنچ نے سماعت کی،جسٹس منصور علی شاہ اور جسٹس اطہر من اللہ بنچ کا حصہ ہیں،جسٹس اطہر من اللہ نے استفسار کیا کہ ایف آئی اے کو کیسے معلوم ہوا کہ بنی گالہ میں میٹنگ ہوئی تھی؟وکیل سلمان صفدر نے کہاکہ یہ ایف آئی اے ہی بتا سکتا ہے کیونکہ اب تک پراسیکیوشن نے ذرائع نہیں بتائے،سائفروزارت خارجہ سے آیا، پراسیکیوشن کے مطابق سکیورٹی سسٹم رسک پر ڈالا گیا،وزارت خارجہ نے سائفر سے متعلق کوئی شکایت نہیں کی،سابق وزیراعظم کو سیاسی انتقام کا نشانہ بنایا جارہا ہے،رانا ثنا اللہ نے بطور وزیر داخلہ ایف آئی اے کو تحقیقات کرنے کاکہا،آفیشل سیکرٹ ایکٹ کا دائرہ وسیع کرکے سابق وزیراعظم پر لاگو کیا گیا۔وکیل سلمان صفدر نے کہاکہ سائفر کے خفیہ کوڈز کبھی سابق وزیراعظم کے پاس تھے ہی نہیں،جسٹس اطہر من اللہ نے کہاکہ وزارت خارجہ سائفر کا حکومت کو بتاتی ہے تاکہ خارجہ پالیسی میں مدد مل سکے،جسٹس منصور علی شاہ نے کہاکہ آفیشل سیکرٹ ایکٹ کا مقصد ہی یہی ہے کہ حساس معلومات باہر کسی کو نہ جا سکیں،ڈپلومیٹک معلومات بھی حساس ہوتی ہیں لیکن ان کی نوعیت مختلف ہوتی ہے،وکیل سلمان صفدر نے کہاکہ امریکا میں پاکستانی سفیر اسد مجیدنے سائفر حساس ترین دستاویز کے طور پر بھیجا تھا،جسٹس منصور علی شاہ نے کہاکہ اس بات پر تو آپ متفق ہیں کہ حساس معلومات شیئر نہیں ہو سکتیں،وکیل سلمان صفدر نے کہاکہ دیکھنا یہی ہے کہ حساس معلومات شیئر ہوئی بھی ہیں یا نہیں،سابق وزیراعظم کے خلاف سزائے موت یا عمر قید کی دفعات عائد ہی نہیں ہوتیں،قائم مقام چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ سائفر کسی سے شیئر نہیں کیا لیکن اے آن ایئر تو کیا ہی گیا ہے،سلمان صفدر نے کہا کہ وزارت خارجہ سے سائفر اعظم خان کو بطور پرنسپل سیکرٹری موصول ہوا تھا،جس میٹنگ میں سائفر سازش منصوبہ بندی کا الزام ہے وہ 28مارچ 2022 کو ہوئی،چالان کے مطابق جس جلسے میں سائفر لہرانے کا الزام ہے وہ 27مارچ 2022کو ہوا تھا،جسٹس اطہر من اللہ نے کہاکہ اصل سائفر تو وزارت خارجہ میں ہے، وہ باہر گیا ہے تو یہ دفتر خارجہ کا جرم ہے،سائفر کو عوام میں زیربحث نہیں لایا جا سکتا۔
