جی ایچ کیو حملہ کیس میں گرفتار تحریک انصاف کے وائس چیئرمین شاہ محمود قریشی نے عدالت میں پولیس افسر پر تشدد کا الزام عائد کردیا ۔نجی ٹی وی چینل کے مطابق شاہ محمود قریشی کو جی ایچ کیو حملہ کیس میں ڈیوٹی مجسٹریٹ کی عدالت میں پیش کردیا گیا،اس موقع پر کمرہ عدالت کے باہر پولیس کی بھاری نفری تعینات تھی،ڈیوٹی مجسٹریٹ سید جہانگیر علی نے کیس کی سماعت کی،ایس ایس پی آپریشنز فیصل سلیم بھی کمرہ عدالت میں موجود تھے۔شاہ محمود قریشی نے دوران سماعت کہاکہ ابھی جیل کی حدود میں تھا کہ پنجاب پولیس گرفتار کرنے پہنچ گئی،میں پانچ بار ممبر اسمبلی رہا، ایس ایچ او نے مجھے مکامارا اور لات ماری،ایس ایچ او اشفاق نے مجھ پر تشدد کیا، مجھ سینے میں تکلیف ہوئی گھنٹوں تک ایس پی سے درخواست کی کہ ہسپتال لے جاؤ،میں نے منتیں کیس مجھے سینے میں تکلیف ہے لیکن ڈاکٹر کے پاس نہ لے جایا گیا،ایک ڈاکٹر کو بلایا جس کے پاس محض بلڈ پریشر دیکھنے کی مشین تھی۔وائس چیئرمین پی ٹی آئی نے کہاکہ آپ قرآن پاک منگوا لیں میں حلف دیتا ہوں،9مئی کو میں راولپنڈی پنجاب میں نہیں، کراچی میں تھا،میری بیوی آغا خان ہسپتال میں تھیں جس کے پاس میں موجود تھا،پیمرا سے ریکارڈ منگوا لیں میں کراچی میں موجود تھا،مجھ سے بیان لیناچاہا لیکن میں نے وکلا کے سامنے بیان دینے کافیصلہ کیا۔شاہ محمود قریشی نے کہاکہ مجھے سخت ترین سردی میں رکھا گیا، رات نیند تک نہ آئی،مجھے جسمانی اور ذہنی طور پر ٹارجر کیا گیا اور تشدد کیا گیا،میں نے پاکستان کی نمائندگی کی ہر جگہ پاکستان کی صفائیاں دیں،میرےساتھ اب یہ سلوک کیا جارہا ہے اور میں کئی ماہ سے جیل میں ہوں،کیا یہ انصاف ہے مجھ پر تشدد ہوا، اوپر اللہ نیچے آپ کا قلم ہے،تیمور ملک نے جج سے شاہ محمود قریشی کی ہتھکڑیاں کھولنے کی درخواست کردی،ڈیوٹی مجسٹریٹ سید جہانگیرعلی نے شاہ محمود قریشی کی ہتھکڑیاں کھولنے کا حکم دیدیا۔
