سپریم کورٹ میں لیول پلئینگ فیلڈ سے متعلق پی ٹی آئی کی توہین عدالت کی درخواست پر سماعت کے دوران چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے لطیف کھوسہ کے نام کےساتھ سردار لکھنے پر اظہار برہمی کیا، چیف جسٹس نے لطیف کھوسہ سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ سردار، نواب، پیر جیسے الفاظ اب لکھنا بند کردیں،1976کے بعد سے سردار نظام ختم ہو چکا ہے،یا تو پاکستان کا آئین چلائیں یا پھرسرداری نظام،آئین پاکستان کے ساتھ اب مذاق کرنا بند کردیں۔نجی ٹی وی چینل کے مطابق سپریم کورٹ میں لیول پلئینگ فیلڈ سے متعلق پی ٹی آئی کی توہین عدالت کی درخواست پر سماعت ہوئی، چیف جسٹس پاکستان کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے سماعت کی،چیف جسٹس نے کہاکہ شعیب شاہین صاحب آپ نے درخواست دائر کی آپ دلائل دیں،شعیب شاہین نے کہاکہ لطیف کھوسہ سینئر وکیل ہیں، میں نے ان سےدلائل کی درخواست کی ہے،میں لطیف کھوسہ کے ساتھ کھڑا ہوں۔چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے لطیف کھوسہ کے نام کےساتھ سردار لکھنے پر اظہار برہمی کیا،چیف جسٹس نے لطیف کھوسہ سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ سردار، نواب، پیر جیسے الفاظ اب لکھنا بند کردیں،1976کے بعد سے سردار نظام ختم ہو چکا ہے،یا تو پاکستان کا آئین چلائیں یا پھرسرداری نظام،آئین پاکستان کے ساتھ اب مذاق کرنا بند کر دیں ،لطیف کھوسہ نے کہاکہ میرے شناختی کارڈ پر سردار لکھا ہے اس لئے عدالت میں بھی سردار لکھا گیا،چیف جسٹس پاکستان نے کہاکہ سردار اور نوابوں کو چھوڑ دیں، اب غلامی سے نکل آئیں۔چیف جسٹس پاکستان نےسردار لطیف کھوسہ سے مکالمہ کرتے ہوئے کہاکہ سردار لکھا کر اپنا رتبہ بڑا کرنے کی کوشش نہ کیا کریں۔
