سپریم کورٹ نے وکلا کے دلائل سننے کے بعد تاحیات نااہلی کیس کا فیصلہ محفوظ کرلیا، چیف جسٹس پاکستان فائز عیسیٰ نے کہاکہ جلد مختصر فیصلہ سنانے کی کوشش کریں گے۔نجی ٹی وی چینل کے مطابق تاحیات نااہلی کیس کی وقفے کے بعد دوبارہ سماعت ہوئی،چیف جسٹس پاکستان کی سربراہی میں 7رکنی بنچ نے کیس کی سماعت کی،جسٹس منصور علی شاہ، جسٹس یحییٰ آفریدی ،جسٹس امین الدین خان ،جسٹس جمال مندوخیل ، جسٹس محمد علی مظہر اور جسٹس مسرت ہلالی بنچ کا حصہ تھے،اٹارنی جنرل منصور عثمان اعوان کی جانب سے دلائل دیئے گئے۔دوران سماعت چیف جسٹس پاکستان نے استفسار کیا کہ کیا سمیع اللہ کیس میں خاکوانی کیس پر بحث ہوئی؟اٹارنی جنرل نے کہاکہ نہیں سمیع اللہ بلوچ کیس میں خاکوانی کیس پر بحث نہیں ہوئی،چیف جسٹس فائز عیسیٰ نے کہاکہ یہ بڑی عجیب بات ہے،جسٹس منصور علی شاہ نے کہاکہ اصل میں خاکوانی کیس کیس معاملے پر تھا؟اٹارنی جنرل منصور عثمان اعوان نے کہاکہ خاکوانی کیس نااہلی سے متعلق تھا۔اٹارنی جنرل نے 2015کے اسحاق خاکوانی کیس کا حوالہ دیا،اٹارنی جنرل نے کہاکہ جسٹس جواد ایس خواجہ نے لکھا تھا، معاملہ متعلقہ کیس میں دیکھیں گے،اس کے بعد یہ معاملہ کبھی نہیں دیکھا گیا،چیف جسٹس پاکستان نے کہاکہ کسی نے یہ نہیں کہا یہ معاملہ فیڈرل شریعت کورٹ کے اختیار میں ہے؟اسلامی معاملات پر دائرہ اختیار تو شریعت کورٹ کا ہوتا ہے۔اٹارنی جنرل نے کہاکہ سمیع اللہ بلوچ کیس میں تاحیات نااہلی کا فیصلہ درست نہیں،سپریم کورٹ نے تاحیات نااہلی کیس میں آئین کی تشریح غلط کی ہے، سپریم کورٹ تعین کرے کہ سیاستدانوں کی اہلیت کی ڈیکلیریشن کس نے دینا ہے،عدالتی فیصلہ کرے کہ نااہلی کی ڈیکلیریشن کس نے دینی ہے، عدالت فیصلہ کرے کہ کورٹ آف لاء کیا ہے، عدالت کو مختلف آئینی سوالات کا تعین کرنا ہوگا۔چیف جسٹس پاکستان نے کہاکہ سمیع اللہ بلوچ کی پوری ججمنٹ دیکھ رہا ہوں، یہ کوئی پرانی تو نہیں،ہم سمیع اللہ بلوچ کیس میں پھنسے ہوئے ہیں خاکوانی کیس پر کیوں نہ جائیں؟اٹارنی جنرل نے کہاکہ بالکل! خاکوانی کیس پر بالکل جائیں،چیف جسٹس پاکستان نے کہاکہ پارلیمنٹ نے 5سال کا ایک فیصلہ کرلیا ہمیں اسے قبول کرنے میں مسئلہ کیا ہے،جسٹس آصف سعید کھوسہ کے سوالات کے جواب کیوں نہیں دیئے گئے؟چیف جسٹس نے جسٹس عمر عطا بندیال کے سمیع اللہ بلوچ کے فیصلےپر سوالات اٹھا دیئے،چیف جسٹس پاکستان نے کہاکہ خاکوانی کیس میں 7رکنی بنچ تھا،7رکنی بنچ نے کہاکہ یہ معاملہ لارجر بنچ دیکھے گا، بعد میں سمیع اللہ بلوچ کیس میں 5رکنی بنچ نے اس پر اپنا فیصلہ کیسے دیا؟جسٹس آصف سعید کھوسہ نے خاکوانی کیس میں بھاری نوٹ لکھا، چیف جسٹس نے کہا کہ انہوں نے کہا ہم اس معاملے پر کچھ نہیں کر سکتے۔سپریم کورٹ نے وکلا کے دلائل سننے کے بعد تاحیات نااہلی کیس کا فیصلہ محفوظ کرلیا۔
