پشاور ہائیکورٹ میں پی ٹی آئی انٹرا پارٹی انتخابات کیس کی سماعت کل (10 جنوری)تک ملتوی کر دی گئی۔نجی ٹی وی کے مطابق پشاور ہائی کورٹ کے جسٹس اعجاز انور اور جسٹس ارشد علی پر مشتمل بنچ نے کیس کی سماعت کی، پی ٹی آئی کے وکیل شاہ فیصل اتمان خیل اور الیکشن کمیشن کے وکیل سکندر شاہ مہمند عدالت میں پیش ہوئے۔ دوران سماعت پی ٹی آئی وکیل نے عدالت سے استدعا کی کہ کیس کو کچھ دیر کیلئے ملتوی کر دیا جائے، بیرسٹر گوہر ابھی عدالت نہیں پہنچے جس پر عدالت نے سماعت کچھ دیر کیلئے ملتوی کر دی۔سماعت دوبارہ شروع ہوئی تو جسٹس اعجاز انور نے ہدایت کی کہ اعتراض کرنے والے وکلا کو بھی طلب کیا جائے، پی ٹی آئی الیکشن پر سب سے پہلے اعتراض کرنے والے اکبر ایس بابر کہاں ہیں۔درخواست گزار نے عدالت کو آگاہ کیا کہ میرا وکیل ہڑتال کی وجہ سے عدالت نہیں آ رہا، جسٹس اعجاز انور نے کہا کہ یہ عدالت ہے ہمارا ہڑتال سے کوئی تعلق نہیں۔
الیکشن کمیشن کے وکیل نے کہا کہ 13 تاریخ کو الیکشن کمیشن انتخابی نشانات الاٹ ہوں گے، پی ٹی آئی کو اگر نشان الاٹ نہیں ہوتا تو امیدواران آزاد تصور ہوں گے، ہائی کورٹ نے پی ٹی آئی کو عبوری ریلیف دیا تھا جو ختم ہو گیا۔بیرسٹر علی ظفر نے عدالت کے روبرو موقف اختیار کیا کہ الیکشن کمیشن کو شکایات درج کرنے والوں نے دوبارہ انٹرا پارٹی انتخابات کرانے کی استدعا کی تھی، تحریک انصاف نے جون 2022 میں انتخابات کرائے، اس پر بھی سوالات اٹھائے گئے، بعد ازاں الیکشن کمیشن نے 20 روز میں دوبارہ پارٹی انتخابات کرانے کی ہدایت کی۔بیرسٹر علی ظفر نے دلائل میں کہا کہ الیکشن کمیشن کے حکم کے مطابق دوبارہ انٹرا پارٹی انتخابات کرائے تو الیکشن الیکشن کمیشن نے مزید اعتراضات سامنے آنے سے متعلق آگاہ کیا۔ الیکشن کمیشن کو اعتراضات جمع کرانے والے متعلقہ افراد نہیں، الیکشن کمیشن نے پی ٹی آئی کے پارٹی الیکشن پر کوئی سوال نہیں اٹھایا، الیکشن کمیشن نے سیکرٹری جنرل عمر ایوب کی تعیناتی غلط قرار دیدی اوراس پر انتخابات کالعدم قرار دیدیئے جس کے بعد انتخابی نشان لے لیا۔ بیرسٹر علی ظفر نے مزید کہا کہ اعتراضات اٹھانے والوں میں سے کوئی بھی پارٹی کا ممبر نہیں۔ آج فیصلہ نہ کیا گیا تو کروڑوں لوگ پارٹی کے حقوق سے محروم ہو جائیں گے۔الیکشن کمیشن کے وکیل نے عدالت کے روبرو موقف اختیار کیا کہ اعتراضات اٹھانے والوں کہا کہنا ہے کہ پی ٹی آئی انٹرا پارٹی الیکشن اس کے آئین کے مطابق نہیں ہوئے، انہوں نے سوال اٹھایا کہ اعتراض اٹھانے والوں کو پارٹی الیکشن میں حصہ لینے کی اجازت کیوں نہیں دی گئی۔ وکیل الیکشن کمیشن نے مزید کہا کہ انٹرا پارٹی الیکشن میں سب کچھ پہلے سے طے کردہ تھا۔یہ امر قابل ذکر ہے کہ الیکشن کمین نے 22 دسمبر کو پی ٹی آئی کے انٹرا پارٹی الیکشن کو کالعدم قرار دے دیا تھا، پشاور ہائیکورٹ نے 26 دسمبر کو الیکشن کمیشن کا فیصلہ معطل کیا تاہم 3 جنوری کو معطلی کا فیصلہ واپس کرتے ہوئے بحال کر دیا تھا۔
