وکیل سندھ اور اسلام آباد بار کونسل نے شوکت صدیقی کیس واپس کونسل کو بھیجنے کی مخالفت کردی،وکیل صلاح الدین نے کہاکہ سپریم جوڈیشل کونسل کا دائرہ اختیار محدود ہے،اگر عدالت چاہے تو کمیشن بنا کر شوکت صدیقی کے الزامات کی انکوائری کرسکتی .نجی ٹی وی چینل کے مطابق وکیل بار کونسلز صلاح الدین نے کہاکہ شوکت صدیقی ریٹائرڈ ہو چکے ہیں،سپریم کورٹ شوکت صدیقی کی اپیل کا خود جائزہ لے،چیف جسٹس پاکستان نے استفسار کیا کہ صلاح الدین صاحب آپ کہہ رہے ہیں کہ قوم کو اندھیرے میں رکھا جائے؟جج کی حد تک فیصلہ کیسے دیں، اس کے الزامات کا بھی تو عوام کو پتہ چلنا چاہئے،صلاح الدین آپ معاملہ کونسل کو ریمانڈ بیک کرنے کی مخالفت کیوں کر رہے ہیں؟وکیل صلاح الدین نے کہاکہ سپریم جوڈیشل کونسل کا دائرہ اختیار محدود ہے،اگر عدالت چاہے تو کمیشن بنا کر شوکت صدیقی کے الزامات کی انکوائری کرسکتی ہے،چیف جسٹس پاکستان نے استفسار کیا کہ سپریم کورٹ کو کس قانون کے تحت کمیشن بنانے کا اختیار ہے؟صلاح الدین نے کہاکہ سپریم کورٹ آرٹیکل 184/3کے تحت معاملے کی انکوائری کر سکتی ہے،چیف جسٹس پاکستان نے استفسار کیا کہ کیا ہم گواہان کے بیان اور ان پر جرح کریں؟
