پی ٹی آئی حمایت یافتہ آزاد امیدواروں کے مستقبل بارے کیس کی سماعت کا فیصلہ محفوظ

الیکشن کمیشن نے پی ٹی آئی حمایت یافتہ آزاد امیدواروں کے مستقبل بارے کیس کی سماعت کا فیصلہ محفوظ کرلیا۔نجی ٹی وی چینل کے مطابق الیکشن کمیشن میں پی ٹی آئی حمایت یافتہ آزاد امیدواروں کے مستقبل بارے کیس کی سماعت ہوئی، چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ کی سربراہی میں بنچ نے سماعت کی۔وکیل سمیر کھوسہ نے کہاکہ سپریم کورٹ نے الیکشن کمیشن کے فیصلے کی توثیق کی،الیکشن کمیشن نے صرف پی ٹی آئی سے انتخابی نشان چھینا،لاہور ہائیکورٹ اور الیکشن کمیشن کی ویب سائٹ پر پی ٹی آئی رجسٹرڈ سیاسی جماعت ہے،اگر الیکشن کمیشن نے رجسٹریشن ختم کرنی تھی تو انتخابی نشان کے فیصلے میں کر دیتی،ممبر سندھ نثار درانی نے کہاکہ آپ سپریم کورٹ جائیں وہاں یہ مدعا رکھیں ،چیف الیکشن کمشنر نے کہاکہ نہیں ٹھیک ہے انکو دلائل دینے دیں،آپ بار بار اپنے دلائل دہرا رہے ہیں،وکیل سمیر کھوسہ نے کہاکہ دلائل دہرا نہیں رہا، بنچ کے سوالوں کے جواب دے رہا ہوں،لاہور ہائیکورٹ نے معاملہ سماعت کیلئے الیکشن کمیشن کو بھجوایا، لاہور ہائیکورٹ کے فیصلے سے متعلق سپریم کورٹ میں اپیل بھی فائل کی۔ممبر پنجاب نے کہاکہ 2فورمز پر ایک درخواست پر کیسےسماعت کی جا سکتی ہے؟چیف الیکشن کمشنر نے کہاکہ آپ کیا چاہتے ہیں سپریم کورٹ سماعت کرے یا الیکشن کمیشن؟ وکیل سمیر کھوسہ نے کہاکہ ہم بیلٹ پیپرز کی تبدیلی یا الیکشن کا التوا نہیں چاہتے ،سلمان اکرم راجہ نے صرف آزاد حیثیت کو چیلنج کیا ہے، الیکشن کمیشن صرف فارم 33میں ترمیم کرکے آزاد حیثیت ختم کرے،ممبراکرام اللہ خان نے کہاکہ الیکشن ایکٹ رول 94کے مطابق سیاسی جماعت وہ ہے جس کو انتخابی نشان الاٹ کیا ہو،پی ٹی آئی کو انتخابی نشان الاٹ نہیں ہوا اور سپریم کورٹ نے فیصلہ برقرار رکھا۔چیف الیکشن کمشنر نے استفسار کیا کہ سپریم کورٹ میں معاملہ زیرالتوا ہے الیکشن کمیشن کیسے اس پر فیصلہ کر سکتا ہے؟وکیل سمیر کھوسہ نے کہاکہ انتخابات 8فروری کو ہونے ہیں، الیکشن کمیشن معاملے کی سنگینی کو سمجھے،ایک چیز کے جانے سے سارے حقوق نہیں چھینے جا سکتے۔ دوران سماعت سپیشل سیکرٹری نے کہاکہ ایک ایک حلقے سے پی ٹی آئی کے کئی امیدواروں نے کاغذات جمع کرائے،وکیل الیکشن کمیشن نے کہاکہ امیدوار کو کاغذات کیساتھ پارٹی ڈیکلریشن بھی جمع کرانا ہوتا ہے،جس امیدوار کے پاس پارٹی کا انتخابی نشان نہیں وہ آزاد تصور ہوگا،نوازشریف کو پارٹی صدارت سے ہٹایا گیا تو امیدواروں نے آزاد حیٖثیت میں سینیٹ الیکشن میں حصہ لیا،پی ٹی آئی کے امیدواروں نے مطالبہ کیا پی ٹی آئی نظریاتی کا نشان دے دیں،پی ٹی آئی نظریاتی کا نشان مانگنے پر آر او کو پی ٹی آئی امیدواروں کو نااہل کرنا چاہئےتھا،بیان حلقی کی خلاف ورزی پر سپریم کورٹ کا آرڈر ہے کہ امیدوار نااہل ہوگا، بیلٹ پیپرز چھپ چکے اس وقت فارم 33میں ترمیم نہیں کی جا سکتی۔الیکشن کمیشن نے فریقین کے وکلا کے دلائل سننے کے بعد پی ٹی آئی حمایت یافتہ آزاد امیدواروں کے مستقبل بارے کیس کی سماعت کا فیصلہ محفوظ کرلیا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں

8 − six =