سرکاری املاک پر سیاسی بینرز اور نعرے قابل برداشت نہیں ، سندھ ہائیکورٹ

سندھ ہائیکورٹ میں عوامی مقامات اور سرکاری املاک پر سیاسی بینرز ، پوسٹرزاور اشتہارات لگانے کے خلاف کیس کی سماعت ہوئی۔جسٹس ندیم اختر نے ریمارکس دیےبظاہر لگ رہا ہے الیکشن کمیشن نے صرف عدالتی حکم متعلقہ حکام کو ارسال کردیا ہے ، وکیل الیکشن کمیشن نے دلائل دیےالیکشن کمیشن نے تمام اداروں کو پابند کیا ہے تمام بینرز ہٹائے جائیں ، جس پر عدالت نے استفسار کیاسیاسی رہنماؤں اور امیدواروں کے خلاف کیا کارروائی کی ؟ کوئی نوٹس دیا ؟ کوئی شوکاز ؟ جسٹس ندیم اختر نےریمارکس دیےآپ کو معلوم ہے سرکاری املاک پر کوئی سیاسی بینرز اور نعرے قابل برداشت نہیں ، عدالت نے الیکشن کمیشن پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ آپ لوگ کس بات کا انتظار کررہے ہیں آپ کو شوکاز نوٹس دیں ؟ جسٹس ندیم اختر نے وکیل الیکشن کمیشن سے کہا کہ آپ کی رپورٹ سے لگ رہا ہے ہم بہت ہی مہذب معاشرے میں رہتے ہیں،زمینی حقائق باالکل برعکس ہیں ، آپ کے خیال سے اب توہین عدالت کی کارروائی کریں ؟ وکیل الیکشن کمیشن نے درخواست کی کہ ایک موقع دے دیں کارروائی ہوجائے گی ، عدالت نے ریمارکس دیےاب کیا کریں گے اب تو مہم ختم ہورہی ہے اور چھ ماہ تک یہ بینرز لگے رہیں گے ۔جسٹس ندیم اختر نےاستفسار کیا کہ الیکشن کمیشن کا جواب دیکھ کر لگ رہا ہے صرف عدالتی آرڈر ہی پہنچایا گیا ہے ،وکیل الیکشن کمیشن نےجواب دیا کہ ہم نے ساتوں ڈی ایم اوز کو کہا تھا جہاں جہاں بینر لگے ہیں اتار دیں ،عدالت نے استفسار کیا کس کو ڈسکوالیفائی کیا گیا ہے کتنے نوٹس جاری کیے سیاسی جماعتوں کو ؟عدالت نے پبلک پراپرٹی پر سیاسی بینر لگانے سے منع کیا تھا ۔الیکشن کمیشن کے وکیل نے جواب دیا کہ ابھی تک کسی سیاسی جماعت کو شوکاز نوٹس جاری نہیں کیا گیا ،عدالت نےریمارکس دیے الیکشن کمیشن کی رپورٹ میں تو سب اچھا ہے ،الیکشن کمیشن کی رپورٹ حقائق پر کیوں مبنی نہیں ہے۔جسٹس ندیم اختر نےاستفسارکیاعدالتی احکامات کی خلاف ورزی پر پتہ ہے نہ کیا کارروائی ہوتی ہے ، الیکشن کمیشن کے لاافسرنےکہاتھوڑی سی مہلت دے دیں ۔جسٹس ندیم اخترنے ریمارکس دیے ہمیں پتہ ہے ڈی سیز الیکشن میں مصروف ہیں ،تمام ڈی سیز کو کل ذاتی حیثیت میں طلب کررہے ہیں۔عدالت نے کیس کی مزید سماعت کل تک ملتوی کردی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں

7 + eighteen =