عمرکوٹ میں نیا شراب خانہ کھلنے پر نجی سکولوں کے طلبا کا احتجاج

عمرکوٹ میں رمضان المبارک میں نئے شراب خانہ کھلنے کے معاملہ پرسکولوں کے طلبہ بھی احتجاج کرتے ہوئے میدان میں آگئے، احتجاجی مظاہرے سے مادو لال ،ثناءاللہ ودیگر طالب علم رہنماؤں نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یہ شراب خانے نوجوانوں کا مستقبل تباہ کررہے ہیں، ہمیں شراب خانوں کی نہیں، تعلیم، صحت، روزگار چاہئے،آج عمرکوٹ کے مختلف پرائیویٹ سکولوں کے طلبہ نے رمضان المبارک میں نئے شراب خانہ کھلنے اور عمرکوٹ میں بڑھتی ہوئی منشیات فروشی کےخلاف پریس کلب عمرکوٹ کے سامنے مظاہرہ کیا جس سے خطاب کرتے ہوئے طالب علم رہنما ثناءاللہ ،جلال کمار،مادو لال نے کہا کہ شراب نوشی ایک لعنت ہے شراب ہندو مذہب سمیت تمام مذاہب میں حرام ہے ، طلبہ کاکہناتھاکہ عمرکوٹ میں دو شراب خانے پہلے ہی ناسور بنے ہوئے ہیں اب تیسرے نئے شراب خانہ کی کیاضرورت ہے جو رمضان المبارک میں نیا شراب خانہ کھولنے کی تیاری ہورہی ہے طلبہ کاکہنا تھا کہ ہمیں شراب خانوں کی نہیں تعلیم صحت روزگار اور صحت مند معاشرے کی ضرورت ہے ۔ ضلع انتظامیہ، محکمہ ایکسائز اورپولیس عوام کی جذبات اور احساسات سے نہ کھیلیں، احتجاجی مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے مولانا محمد یوسف سیمجو کاکہنا تھا کہ شراب خانہ کھولنے سے باز رہاجائے بعدازاں طلبہ پرامن احتجاج ریکارڈ کراکر منتشر ہوگئے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں

5 × 2 =