کراچی پولیس نے رواں سال کا سب سے بڑا ہائی پروفائل اغواء کیس حل کرلیا

کراچی کے انسداد اغواء برائے تاوان سیل نے خفیہ اطلاع پر اہم ترین کارروائی کرتے ہوئے رواں سال کا سب سے بڑا ہائی پروفائل اغواء کیس حل کرلیا۔ ایس ایس پی ظفر صدیق چھانگا نے بتایا کہ 5 روز قبل سمن آباد میں اغواء برائے تاوان کی واردات ہوئی تھی، جس میں فلمی انداز میں2 کم عمر طالب علموں کو سکول وین سے اتار کر اغوا کیا گیا،عبداللہ اور ابراہیم کو کار میں بٹھا کر ایک گھر میں لے جایا گیا، کار میں مرکزی ملزم کے 4 دوست بھی موجود تھے، چند گھنٹے بعد بچوں کو ناگن چورنگی پر چھوڑ دیا گیا۔ایس ایس پی ظفر صدیق چھانگا نے بتایا کہ سکول کے بچوں ابراہیم اور عبداللہ کو سکول جاتے وقت اغوا کیا گیا تھا، اس اغواء برائے تاوان کی واردات میں ملوث5 اغواء کاروں کو گرفتار کیا گیا۔ایس ایس پی ظفر کے مطابق گروہ کا ماسٹر مائنڈ مغوی بچوں کا قریبی رشتہ دار وجاہت نکلا، جبکہ دیگر گرفتار اغواء کاروں میں حماد، اسامہ، حمدان عرف پارٹی، سلطان عرف سونو شامل ہیں۔ایس ایس پی ظفر کے مطابق وجاہت صورتِ حال پر مکمل اپڈیٹ لے رہا تھا، ملزم کو پتہ چل گیا تھا کہ دو ایس ایس پیز کام پر لگ گئے ہیں، جلدی میں جب کام نہ ہوا تو بچوں کو چھوڑ کر جان چھڑانے کی کوشش کی۔ایس ایس پی ظفر نے بتایا کہ ٹیکنیکل بنیادوں پر دن رات اس کیس پر کام کیا گیا، بچوں کے بیانات ریکارڈ کیے گئے سکیچز بھی بنوائے گئے۔ایس ایس پی ظفر صدیق چھانگا نے بتایا کہ وجاہت کو لگتا تھا اس کے انکل کے پاس بہت پیسے ہیں، لالچ میں آکر اس نے اپنے ہم عمر دوستوں کے ساتھ اغوا ءکی منصوبہ بندی کی, جس گھر میں بچوں کو اغواء کرکے رکھا گیا وہ اسامہ کا تھا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں

6 + one =