پاکستانی فوج کے ترجمان ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا کہ عزم استحکام آپریشن نہیں بلکہ دہشت گردی کے خلاف ایک مربوط مہم ہے۔ پیر کو پریس کانفرنس کرتے ہوئے ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ ایک انتہائی سنجیدہ معاملے کو سیاست کی بھینٹ چھڑایا جا رہا ہے۔اک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ ( آئی ایس پی آر ) کے ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی ) میجر جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا کہ آپریشن عزم استحکام کو سیاست کی بھینٹ چڑھایا جارہا ہے، حالیہ کچھ عرصے میں مسلح افواج کے خلاف منظم پرو پیگنڈے اور جھوٹے خبروں میں اضافہ ہوا ہے اس لئے ان معاملات پر بات چیت ضروری ہے۔ جولائی 22, 2024 ویب ڈیسکڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل احمد شریف چوہدریفائل فوٹو ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل احمد شریف چوہدری پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ ( آئی ایس پی آر ) کے ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی ) میجر جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا کہ آپریشن عزم استحکام کو سیاست کی بھینٹ چڑھایا جا رہا ہے، حالیہ کچھ عرصے میں مسلح افواج کے خلاف منظم پرو پیگنڈے اور جھوٹے خبروں میں اضافہ ہوا ہے اس لئے ان معاملات پر بات چیت ضروری ہے۔لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف نے کہا کہ اس سال سکیورٹی فورسز نے 22409 انٹیلیجنس بیسڈ آپریشن کیے، آپریشنز کے دوران 31 انتہائی مطلوب دہشت گردوں کی ہلاکت بھی ہوئی، ادارے روزانہ کی بنیاد پر 112 آپریشنز انجام دے رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ عزم استحکام پر 22 جون کو نیشنل ایپکس کمیٹی کا اجلاس ہوا، اجلاس میں متعلقہ وزرا ، وزرائے اعلیٰ، چیف سیکرٹریز موجود تھے اور تمام سروسز چیفس بھی موجود تھے، ایپکس کمیٹی اجلاس کا ایک اعلامیہ بھی جاری ہوا جس میں کہا گیا ہمیں ایک قومی اتفاق رائے سے انسداد دہشت گردی کی پالیسی بنانی ہے۔انہوں نے کہا کہ انتہائی سنجیدہ ایشوز کو سیاست کی بھینٹ چڑھایا جارہا ہے، عزم استحکام اس کی مثال ہے، عزم استحکام فوجی آپریشن نہیں بلکہ دہشتگردی کے خلاف ایک مربوط مہم ہے، عزم استحکام کو متنازعہ کیوں بنایا جارہا ہے؟ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ ایک مضبوط لابی ہے جوچاہتی ہے کہ عزم استحکام کے اغراض مقاصد پورے نہ ہوں، عزم استحکام پرسیاست کی جارہی ہے، کیوں ایک مافیا ،سیاسی مافیا اور غیرقانونی مافیا کھڑا ہوگیا اورکہنے لگا اس کو ہم نے ہونے نہیں دینا؟ یہ سیاسی مافیا چاہتا ہے کہ عزم استحکام کومتنازعہ بنایا جائے۔
