معروف افسانہ اور ناول نگار قرۃ العین حیدر کی 17ویں برسی

افسانہ اور ناول نگار قرۃ العین حیدر کو اس دنیا سے رخصت ہوئے 17برس گزر گئے۔قرۃ العین حیدر 20جنوری 1927ء کو علی گڑھ میں پیدا ہوئیں۔1947ء میں اپنے خاندان کے ہمراہ پاکستان چلی آئیں اور 1950ء میں وزراتِ اطلاعات و نشریات پاکستان سے بحیثیت انفارمیشن آفیسر وابستہ ہوگئیں۔اردو زبان کے 10 بڑے ناولوں میں سے ایک ناول ’آگ کا دریا‘ کو مانا جاتا ہے۔ انہوں نے یہ ناول پاکستان میں قیام کے دوران لکھا تھا۔اِس ناول کو دنیائے ادب میں بے حد مقبولیت حاصل ہوئی، اور بعد میں انہوں نے خود اِس ناول کا انگریزی ترجمہ بھی کیا۔ اِس کے بعد انہوں نے اپنا ایک ناول ’آخر شب کے ہمسفر‘ لکھا، جو انہیں بے حد پسند تھا، اِس ناول کو بھی اردو ناول نگاری میں ایک اہم ناول تصور کیا جاتا ہے۔قرۃ العین حیدر نے کُل 8 ناول لکھے، جن میں ’میرے بھی صنم خانے‘، ’سفینہ غم دل‘، ’آگ کا دریا‘، ’آخر شب کے ہمسفر‘، ’کار جہاں دراز ہے‘، ’گردش رن اُن کا ناول ’کار جہاں دراز ہے‘ تین حصوں پر مشتمل اور سوانحی ناول ہے، جس میں انہوں نے اپنی زندگی کے کئی ذاتی گوشوں پر بھی تفصیل سے بات کی ہے۔پاکستان

اپنا تبصرہ بھیجیں

6 + eight =