ڈھاکا، بنگلادیش —
بنگلادیش کی دارالحکومت کی ایک عدالت نے برطرف وزیراعظم شیخ حسینہ کو سرکاری اراضی منصوبے میں بدعنوانی کے الزام پر پانچ سال قید کی سزا سنائی، جبکہ ان کی بھانجی اور برطانوی لیبر پارٹی کی رکنِ پارلیمنٹ، ٹولِپ صدیق، کو دو سال قید کی سزا دی گئی۔
خصوصی جج کی عدالت کے جج ربیع الاسلام کے مطابق حسینہ نے وزارتِ عظمیٰ کے اختیارات کا ناجائز استعمال کیا، جبکہ صدیق اپنی والدہ اور دو بہن بھائیوں کے لیے سرکاری منصوبے میں پلاٹ دلوانے کے لیے حسینہ پر اثرانداز ہونے کی مرتکب پائی گئیں۔ صدیق کی والدہ شیخ ریحانہ کو کیس کی مرکزی شریکِ ملزم قرار دیتے ہوئے سات سال قید کی سزا سنائی گئی۔ کیس میں مزید 14 ملزمان بھی شامل ہیں۔
ٹولِپ صدیق، جو برطانوی پارلیمنٹ میں لندن کے ہیمپسٹیڈ اور ہائی گیٹ کے حلقے کی نمائندگی کرتی ہیں، پہلے ہی الزامات کی تردید کر چکی ہیں اور کارروائی کو ’’من گھڑت الزامات پر مبنی سیاسی انتقام‘‘ قرار دے چکی ہیں۔
سنڈے کے فیصلے سے قبل وہ جنوری میں اپنی خالہ سے تعلقات کے باعث حکومتی عہدے سے بھی مستعفی ہو گئی تھیں۔
شیخ حسینہ کو گزشتہ نومبر میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں اور گزشتہ سال کی عوامی بغاوت کے سخت کریک ڈاؤن سے متعلق مقدمے میں سزائے موت سنائی جا چکی ہے۔ وہ اس وقت بھارت میں جلاوطنی کی زندگی گزار رہی ہیں اور ان کے تمام مقدمات غیر حاضری میں چلائے گئے۔ حالیہ فیصلے میں بھی انہوں نے اور دیگر ملزمان نے کوئی وکیل مقرر نہیں کیا۔
ریحانہ ملک سے باہر ہیں جبکہ ٹولِپ صدیق کے دونوں بہن بھائی بھی گزشتہ سال کی بغاوت سے متعلق دیگر کیسز کے باعث بیرونِ ملک مقیم ہیں۔
اسی سرکاری ٹاؤن شپ منصوبے سے متعلق تین علیحدہ مقدمات میں 27 نومبر کو ایک دوسری عدالت نے حسینہ کو 21 سال قید کی سزا سنائی تھی، جبکہ اسی کیس میں ان کے بیٹے اور بیٹی کو بھی پانچ، پانچ سال قید کی سزا سنائی گئی۔
