بھارت کو اس وقت ایک بڑا جھٹکا لگا جب ہائی پروفائل جاسوسی کیس میں گرفتار کیے گئے سابق براہموس انجینیئر کو عدالت نے بری قرار دے دیا۔ یہ وہی انجینیئر ہیں جن پر الزام تھا کہ وہ بھارت کے میزائل سسٹم سے متعلق حساس معلومات پاکستان تک پہنچا رہے تھے۔ کئی برسوں تک جاری رہنے والی اس قانونی جنگ کے بعد عدالت نے واضح کیا کہ پیش کیے گئے شواہد الزام ثابت کرنے کے لیے کافی نہیں تھے۔
یہ مقدمہ بھارت میں قومی سلامتی کے حوالے سے کافی شور مچاتا رہا۔ گرفتاری کے بعد بھارتی میڈیا میں مختلف انداز میں یہ مؤقف پیش کیا جاتا رہا کہ یہ کیس ملکی دفاع کو نقصان پہنچانے کی بڑی سازش ہوسکتا ہے۔ تاہم عدالتی کارروائی نے اس دعوے کی بنیادوں کو ہلا کر رکھ دیا۔ عدالت نے مؤقف اختیار کیا کہ تکنیکی شواہد اور ڈیجیٹل مواد کے حوالے سے استغاثہ کی طرف سے دی گئی وضاحتیں غیر تسلی بخش تھیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ بھارت کے تحقیقاتی نظام اور سائبر سیکیورٹی طریقہ کار کے لیے اہم سبق ہے۔ اگر ایک حساس دفاعی ادارہ بھی اپنے ملازمین کے ڈیٹا کی نگرانی یا سائبر پروٹوکول کو مؤثر طریقے سے لاگو نہ کرسکے تو یہ بڑی کمزوری کی نشاندہی کرتا ہے۔ دوسری جانب بری کیے گئے انجینیئر کے اہلِ خانہ اس فیصلے کو انصاف کی جیت قرار دے رہے ہیں۔
یہ معاملہ مستقبل میں بھارتی سکیورٹی اداروں کے لیے لازم کردے گا کہ وہ نہ صرف داخلی سیکیورٹی کو مضبوط بنائیں بلکہ ایسے معاملات میں پیشہ ورانہ شواہد کے بغیر سنسنی خیزی پیدا کرنے سے بھی گریز کریں۔ اس فیصلے نے واضح کر دیا ہے کہ الزامات سے زیادہ اہمیت مضبوط ثبوتوں کی ہوتی ہے۔
