ڈی جی آئی ایس پی آر نے بانی پی ٹی آئی کو ذہنی مریض قرار دے دیا
ملکی سیاست ایک بار پھر تناؤ کا شکار ہو گئی ہے، جب ڈی جی آئی ایس پی آر نے اپنے حالیہ بیان میں بانی پی ٹی آئی کی ذہنی حالت پر سوال اٹھاتے ہوئے انہیں ’’ذہنی مریض‘‘ قرار دیا۔ ان کے اس تبصرے نے سیاسی ماحول میں نئی بحث چھیڑ دی ہے اور مختلف حلقوں میں شدید ردعمل سامنے آ رہا ہے۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی کی جانب سے اداروں کے خلاف بیانات اور ان کا طرزِ سیاست مسلسل انتشار اور غلط فہمیاں پیدا کر رہا ہے۔ ان کے مطابق ایسے بیانات ریاستی استحکام کو متاثر کر سکتے ہیں، اور ملکی مفاد کے برعکس رویے کو کسی بھی صورت میں نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ فوجی ترجمان نے زور دیا کہ ریاستی اداروں کو متنازع بنانے کی کوشش دراصل عوام کو گمراہ کرنے کا ذریعہ بنتی ہے۔
بیان سامنے آنے کے بعد سیاسی حلقوں میں تقسیم واضح دکھائی دی۔ بانی پی ٹی آئی کے حامی اسے غیر ضروری اور ذاتی حملہ قرار دے رہے ہیں، جبکہ مخالفین کا کہنا ہے کہ یہ بیان اداروں کے اندر بڑھتی تشویش کا اظہار ہے۔ تجزیہ نگاروں کا خیال ہے کہ اس طرح کے بیانات سیاسی کشیدگی کو مزید بڑھا سکتے ہیں اور سیاسی مکالمے میں تلخی میں اضافہ ممکن ہے۔
سیاسی ماہرین یہ بھی کہہ رہے ہیں کہ ایسی صورتِ حال میں تمام فریقین کو ذمہ دارانہ گفتگو اور اعلیٰ سیاسی حکمت عملی کی ضرورت ہے تاکہ ملک میں پہلے سے موجود بحران مزید گہرا نہ ہو۔ مستقبل میں اس بیان کے اثرات کیا ہوں گے، یہ آنے والے دنوں میں مزید واضح ہو گا۔
