سندھ اسمبلی میں انتظامی نظم و ضبط کو برقرار رکھنے کے لیے ایک اہم قدم اٹھاتے ہوئے پی اے سی (پبلک اکاؤنٹس کمیٹی) کے سیکریٹری کو ان کے منصب سے ہٹا دیا گیا ہے۔ یہ اقدام اس وقت سامنے آیا جب ان پر الزامات لگے کہ انہوں نے اسمبلی سیکریٹریٹ کے باقاعدہ طریقہ کار کو نظرانداز کرتے ہوئے براہ راست وزیرِ اعلیٰ سندھ سے رابطہ کیا۔ حکومتی ذرائع کے مطابق یہ رابطہ قواعد و ضوابط کی خلاف ورزی تھا، کیونکہ کسی بھی سرکاری خط و کتابت یا درخواست کو متعلقہ سیکریٹریٹ کے ذریعے آگے بڑھانا ضروری ہوتا ہے۔
اسمبلی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ قواعد کی پاسداری اداروں کے استحکام کے لیے ناگزیر ہے، اور کسی بھی افسر کی جانب سے باضابطہ طریقہ کار کی خلاف ورزی نہ صرف ادارہ جاتی نظم کو متاثر کرتی ہے بلکہ شفافیت کے عمل میں بھی رکاوٹ بنتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ معاملے کی تحقیقات کے بعد فوری طور پر برطرفی کا فیصلہ کیا گیا۔
سیاسی مبصرین کے مطابق اس فیصلے کا مقصد سرکاری اداروں میں پروفیشنلزم اور ضابطے کی پابندی کو یقینی بنانا ہے، تاکہ مستقبل میں کوئی بھی افسر براہ راست اعلیٰ عہدیداران سے رابطے کی کوشش نہ کرے۔ اس اقدام کو شفاف طرزِ حکمرانی کے حوالے سے ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے۔
اگرچہ برطرف سیکریٹری کی جانب سے تاحال کوئی سرکاری بیان سامنے نہیں آیا، مگر اس واقعے نے ایک مرتبہ پھر حکومتی اداروں میں قواعد و ضوابط کی اہمیت کو اجاگر کیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ کارروائی مستقبل میں غیر ضروری مداخلت اور طریقہ کار کی خلاف ورزی کے رجحان کو روکنے میں مددگار ثابت ہو سکتی ہے۔
