تھائی لینڈ اور کمبوڈیا کے درمیان سرحدی کشیدگی ایک بار پھر بڑھ گئی ہے، جب اطلاعات کے مطابق تھائی فضائیہ نے سرحدی علاقے میں مبینہ فوجی ٹھکانوں کو نشانہ بنایا۔ اگرچہ دونوں ممالک کی جانب سے حتمی تصدیق سامنے نہیں آئی، لیکن سرحدی نگرانی رکھنے والے علاقائی مبصرین کا کہنا ہے کہ صورتحال میں اچانک اضافہ اس وقت سامنے آیا جب دونوں ممالک ایک عرصے سے تنازع کے حل کے لیے جاری مذاکرات کو بحال کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔ اس تناؤ نے اس امن معاہدے کو بھی غیر یقینی صورتحال سے دوچار کر دیا ہے جسے چند ماہ قبل سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ثالثی سے پیش کیا گیا تھا۔
معاہدے کا مقصد دونوں ممالک کو عسکری کارروائیوں سے روکنا اور سرحدی لائن پر نگرانی کا مشترکہ نظام قائم کرنا تھا، تاہم تازہ واقعات نے اس پیش رفت کو شدید دھچکا پہنچایا ہے۔ سرحدی علاقوں میں رہنے والے شہریوں نے بھی خوف و ہراس کی اطلاع دی ہے، کیونکہ کسی بھی ممکنہ جھڑپ سے مقامی آبادی براہِ راست متاثر ہوتی ہے۔
دونوں حکومتوں کے درمیان بیانات کی جنگ بھی جاری ہے۔ تھائی لینڈ کا موقف ہے کہ سرحدی خلاف ورزیوں نے صورتحال کو بگاڑا، جبکہ کمبوڈیا حکام کا کہنا ہے کہ وہ کسی بھی قسم کی جارحیت میں ملوث نہیں۔ غیر جانبدار ماہرین کا خیال ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان اعتماد کی کمی مسئلے کی بنیادی وجہ ہے، اور یہی وجہ ہے کہ کسی ایک فریق کا چھوٹا اقدام بھی پورے معاہدے کو خطرے میں ڈال سکتا ہے۔
عالمی برادری نے فوری طور پر تحمل سے کام لینے اور مذاکرات کی میز پر واپس آنے کی اپیل کی ہے۔ اگر فریقین نے سفارتی راستہ اختیار نہ کیا تو خدشہ ہے کہ یہ سرحدی تنازع خطے میں مزید عدم استحکام پیدا کر سکتا ہے۔ موجودہ صورتحال میں امن قائم رکھنا نہ صرف دونوں ممالک بلکہ پورے خطے کے مفاد میں ہے۔
