شام میں برسوں کی سخت حکمرانی اور مسلسل تصادم کے بعد فضا میں ایک غیر معمولی ہلکا پن محسوس کیا جا رہا ہے، جیسے ملک ایک طویل بوجھ سے آزاد ہوا ہو۔ سیاسی منظرنامے میں آنے والی تبدیلی نے عوام میں امید کی ایک نئی کرن جگائی ہے، مگر اس کے ساتھ ساتھ مسائل کی ایک نئی فہرست بھی سامنے آ رہی ہے۔ اسد خاندان کے اثر و رسوخ میں کمی نے اگرچہ ریاستی جبر کو نسبتاً کم کیا ہے، مگر وہ خلا جس نے جنم لیا ہے، ابھی تک کسی مضبوط اور متحد قیادت سے پُر نہیں ہو سکا۔
ملک کے کئی حصوں میں انتظامی ڈھانچہ کمزور ہے، مقامی گروہ مختلف علاقوں میں کنٹرول قائم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، اور عوام بنیادی سہولتوں کے منتظر ہیں۔ بجلی، صحت اور تعلیم جیسے شعبے اب بھی بحران سے نکلنے کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں۔ جنگ کے طویل اثرات نے معیشت کو سخت متاثر کیا ہے، جس کے باعث روزگار کے مواقع کم اور مہنگائی زیادہ ہو چکی ہے۔
بین الاقوامی برادری شام میں سیاسی استحکام لانے کے لیے مختلف تجاویز پر غور کر رہی ہے، مگر بیرونی دلچسپی بھی بعض اوقات ملک کے اندرونی تنازعات کو پیچیدہ بنا دیتی ہے۔ کچھ حلقوں کا خیال ہے کہ شام کو بیرونی مداخلت سے زیادہ اپنے اداروں کو مضبوط بنانے، عوامی اعتماد بحال کرنے اور سیاسی مفاہمت کی ضرورت ہے۔
شامی عوام اب دو احساسات کے درمیان کھڑے ہیں—ایک طرف ظالمانہ دور سے نجات کا سکون، اور دوسری طرف غیر یقینی مستقبل کا خوف۔ ملک کے نوجوان ایک بہتر مستقبل چاہتے ہیں، لیکن انہیں معلوم ہے کہ یہ راستہ آسان نہیں ہوگا۔ شام کی بحالی ایک طویل سفر ہے، اور یہ سفر تبھی کامیاب ہوگا جب داخلی اتحاد، شفاف قیادت اور حقیقی اصلاحات سامنے آئیں۔
