تھائی لینڈ اور کمبوڈیا کے درمیان سرحدی علاقوں میں حالیہ جھڑپوں نے سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ثالثی میں طے شدہ امن معاہدے کو شدید خطرے میں ڈال دیا ہے۔ معاہدے کا مقصد دونوں ممالک کے درمیان طویل عرصے سے جاری سرحدی کشیدگی کو کم کرنا اور باہمی تعاون کو فروغ دینا تھا، لیکن تازہ جھڑپوں نے اس امن منصوبے کی بنیاد ہلا دی ہے۔
حالیہ جھڑپیں بنیادی طور پر سرحدی علاقوں میں زمین کے تنازع پر ہو رہی ہیں۔ مقامی ذرائع کے مطابق دونوں ممالک کی فوجیں ایک دوسرے کی چوکیوں پر حملے کر رہی ہیں، جس کے نتیجے میں کئی افراد زخمی اور بعض علاقے خالی کرنے پر مجبور ہوئے ہیں۔ سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ یہ جھڑپیں نہ صرف سرحدی انتظام میں خلا ظاہر کرتی ہیں بلکہ دوطرفہ اعتماد کی کمی کو بھی عیاں کرتی ہیں۔
ٹرمپ کی ثالثی میں ہونے والا امن معاہدہ 2023 میں طے پایا تھا، اور اس میں دونوں ممالک نے سرحدی علاقوں میں فوجی موجودگی محدود کرنے اور باہمی بات چیت کے ذریعے تنازعات حل کرنے پر اتفاق کیا تھا۔ تاہم، تازہ جھڑپوں کے بعد ایسا لگتا ہے کہ یہ وعدے عملی طور پر کارگر نہیں ہیں۔
ماہرین کے مطابق اس بحران کا حل فوری مذاکرات اور مقامی سطح پر اعتماد سازی کے اقدامات میں مضمر ہے۔ اگر دونوں ممالک دوبارہ امن کی جانب نہیں آئیں تو یہ خطے کی سیاسی اور اقتصادی صورتحال پر منفی اثر ڈال سکتا ہے، خاص طور پر سرحدی تجارتی راستے اور سیاحت پر۔
تھائی لینڈ اور کمبوڈیا کے رہنما فوری ثالثی کے ذریعے کشیدگی کم کرنے پر زور دے رہے ہیں، لیکن صورت حال پیچیدہ ہے کیونکہ مقامی آبادی کی جذباتیت اور سرحدی علاقوں میں موجود حساسیت تنازع کو مزید بڑھا رہی ہے۔
