حکومت سندھ نے کراچی میں ساڑھے 8 ارب کے پروجیکٹس ایف ڈبلیو او کے سپرد کردیے

سندھ حکومت نے کراچی میں ساڑھے 8 ارب کے پروجیکٹس ایف ڈبلیو او کے سپرد کردیے۔حکومت سندھ ساڑھے 8 ارب روپے سے کراچی میں 4 میگاپروجیکٹ شروع کرنے جا رہی ہے، جن میں سے 3 پروجیکٹس پر اگست میں باقاعدہ آن گراؤنڈ کام شروع کر دیا جائے گا۔مذکورہ پروجیکٹس کے کام حکومت سندھ نے ایف ڈبلیو او کے سپرد کیے ہیں، بڑے منصوبوں میں سپر ہائی وے (ایم نائن) پر ناردرن بائی پاس کے قریب فلائی اوور (انٹر چینج) تعمیر کرنے کا فیصلہ بھی کیا گیا ہے۔موٹر وے کے اوپر فلائی اوور ہونے کی وجہ سے محکمہ بلدیات سندھ نے نیشنل ہائی وے اتھارٹی سے این او سی کے لیے کارروائی کا آغاز کردیا ہے، یہ فلائی اوور جناح ایونیو ملیر کینٹ روڈ سے حیدرآباد اور سہراب گوٹھ سبزی منڈی سے جناح ایونیو جانے والوں کو سہولت فراہم کرے گا، اس طرح موٹر وے کے دونوں جانب کی ٹریفک کو طویل یوٹرن لینے کی ضرورت نہیں پڑے گی۔اخراجات کا تخمینہ 2 ارب 30 کروڑ روپے ہے اس میں جناح ایونیو کی بحالی اور بیوٹیفیکیشن بھی شامل ہے۔دیگر اہم منصوبوں کی جو تفصیلات سامنے آئی ہیں ان میں موٹر وے پرالآصف اسکوائر کے سامنے ابوالحسن اصفہانی روڈ کو ملانے کے لیے انٹرسیکشن پر فلائی اوور کی تعمیر شامل ہے، اس کی لاگت 2ارب10 کروڑ روپے ہے اور اگست کے مہینے میں باقاعدہ کام شروع کردیا جائے گا۔ یہ فلائی اوور ہر طرف سے آنے والے ٹریفک کو سہولت فراہم کر ے گا، ہاکس بے روڈدو حصے وائی جنکشن سےمچھلی چوک تک ساڑھے 8 کلومیٹر طویل اورمچھلی چوک سے بائیں جانب کاکا پیر کی سڑک شامل ہیں، دونوں پر لاگت کا تخمینہ4 ارب 16کروڑ 20 لاکھ روپے ہے اس منصوبے پر بھی اگست میں کام شروع ہو جائے گا۔اس کے علاوہ ایک اور پروجیکٹ ملیرہالٹ انڈر پاس پر بھی جلد کام شروع ہونے جا رہا ہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں

seventeen − one =