پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں جہاں راولاکوٹ شہر میں کالعدم جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے بیچ پُرتشدد تصادم کے بعد کشیدگی برقرار ہے تو وہیں دارالحکومت مظفرآباد میں موجود قانون ساز اسمبلی میں خواجہ آصف سمیت پاکستان کے بعض وفاقی وزرا کے بیانات کے خلاف ایک مذمتی قراردار پیش کی گئی ہے۔بدھ کی شب کشمیر اسمبلی کے اجلاس میں پیش کی گئی قرارداد پر ووٹنگ آج متوقع ہے۔کشمیر میں پاکستان پیپلز پارٹی سے تعلق رکھنے والے رُکن قانون ساز اسمبلی سردار محمد یعقوب خان کی جانب سے جمع کروائی گئی اس قرارداد میں پاکستان کے وفاقی وزرا کے کشمیر میں بدامنی سے متعلق بیانات کی مذمت کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ وزیرِ اعظم پاکستان شہباز شریف کو اس کا نوٹس لینا چاہیے۔اس قرارداد میں یہ مطالبہ بھی کیا گیا ہے کہ بدامنی کے واقعات پر ’سچ اور مفاہمت کمیشن‘ کے قیام تک راولاکوٹ میں ’کسی بھی کارروائی کو روکا جائے۔‘قرارداد کے متن میں لکھا ہے کہ ’موجودہ حالات اس بات کے متقاضی ہیں کہ ریاست میں مزید جانی نقصان سے بچا جائے۔‘دریں اثنا جمعرات کو راولاکوٹ میں حکام کے مطابق مظاہرین کی جانب سے تاحال اپنا لانگ مارچ دوبارہ شروع نہیں کیا گیا ہے لیکن شہر میں کالعدم عوامی ایکشن کمیٹی اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے درمیان فائرنگ کے تبادلے کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔ جبکہ میرپور میں بازار دوسرے روز بھی بند ہیں اور مظفر آباد میں 50 روز کی بندش کے بعد انٹرنیٹ سروسز بحال کی گئی ہیں۔
