جولائی میں اشیائے خورونوش کے دام آسمان پر، ٹماٹر، آٹا، چکن اور انڈے مہنگے ہوگئے

جولائی میں مہنگائی کا دباؤ برقرار رہا، اشیائے خورونوش کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ رپورٹ کے مطابق ٹماٹر، آٹا، چکن اور انڈوں سمیت متعدد ضروری اشیا مزید مہنگی ہوگئیں، جس سے شہریوں کی مشکلات میں اضافہ ہوا۔وفاقی ادارہ شماریات کی تازہ رپورٹ کے مطابق انڈے، برائلر چکن اور سبزیوں کے دام بھی 14 سے 22 فیصد تک چڑھ گئے، چائے کی چسکیاں بھی شائقین کو ساڑھے 3 فیصد سے زائد مہنگی پڑ گئیں جبکہ توانائی اور غذائی اشیاء سے ہٹ کر مجموعی مہنگائی 7 فیصد بڑھ کر 8.6 فیصد تک پہنچ گئی ہے۔رپورٹ کے مطابق جولائی 2026 میں مہنگائی شہری علاقوں میں 8.7 اور دیہات میں اور بھی زیادہ 9.9 فیصد رہی۔ نان فوڈ اور نان انرجی کور مہنگائی 7 فیصد اضافے کے ساتھ 8.6 فیصد سالانہ ریکارڈ کی گئی۔جولائی میں 116 فیصد تک اضافے کے ساتھ ٹماٹر کی قیمت نے عوام کے چہرے بھی لال کر دیے۔ آٹا 6.75 فیصد مہنگا ہوا، گندم کی قیمت 7.42 فیصد بڑھی۔ زندہ برائلر چکن 19، پیاز 20 اور سبزیاں 22 فیصد مہنگی ہوئیں۔ انڈے کے نرخ 14.3 فیصد بڑھ گئے۔
رپورٹ کے مطابق بیکری آئٹمز، چاول، گڑ، خشک دودھ، تازہ دودھ بھی مہنگا ہوگیا ہے۔ دوائیں دو فیصد اور رہائشی سہولیات 3.16 فیصد مہنگی ہوئیں جبکہ جولائی میں گھروں کے کرائے 1.48 فیصد بڑھ گئے۔ ہاؤسنگ، پانی، بجلی، گیس اور ایندھن کے اخراجات میں 7.14 فیصد تک اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ادارہ شماریات کی رپورٹ کے مطابق سالانہ بنیاد پر خوراک 10.64 فیصد تک مہنگی ہوئی جلد خراب ہونے والی اشیائے خورونوش کے نرخ ایک سال میں 5.8 فیصد چڑھ گئے۔ ٹرانسپورٹ 15 فیصد، کپڑے اور جوتے 9.18 فیصد، تعلیم 9 فیصد وار صحت کی سہولیات 7.80 فیصد مہنگی ہوگئی ہیں۔

اپنا تبصرہ لکھیں

16 − four =