کراچی: قیوم آباد میں ڈیڑھ سالہ بچی ایزل علی کے مبینہ زیادتی کے بعد جاں بحق ہونے کے واقعے پر والد اور اہل علاقہ نے ملزم کو سخت ترین سزا دینے کا مطالبہ کر دیا۔ پولیس نے واقعے میں ملوث قریبی رشتے دار کو گرفتار کر لیا ہے۔مقتولہ شیر خوار بچی ایزل علی کے والد نے رانا علی نے بتایا کہ اہلیہ کی پھوپھو کا بیٹا اکثر ان کے گھر آکر بیٹی کو چیز دلانے کے لیے لے کر جاتا تھا، گزشتہ روز بھی ملزم گھر آیا اور کہا میں بچی کو چیز دلا کر واپس آتا ہوں اور بیٹی کو ساتھ لے گیا۔والد رانا علی نے بتایا کہ ملزم 20 منٹ تک بیٹی کو واپس نہیں لایا اور جب وہ بیٹی کو گھر چھوڑ کر گیا تو بیٹی نڈھال تھی، گھر والے طبیعت خراب ہونے پر بیٹی کو دوا پلا کر سلانے کی کوشش کرتے رہے لیکن بچی کو کوئی آرام نہیں آرہا تھا اور طبعیت مزید بگڑنے لگی پھر الٹیاں کرنا شروع کر دیں۔انہوں نے بتایا کہ بیٹی کو قریبی اسپتال لے کر گئے لیکن اسپتال انتظامیہ نے بچی کو جناح اسپتال لے جانے کا کہا لیکن بیٹی جناح اسپتال جاتے ہوئے راستے میں ہی دم توڑ گئی۔ انہوں نے بتایا کہ ملزم منان قیوم آباد ڈی کا رہائشی ہے اور واقعے کے بعد ملزم کو پکڑ کر پولیس کے حوالے کر دیا گیا۔مقتولہ بچی کے والد نے ارباب اختیار سے انصاف فراہم کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ ملزم منان کے ساتھ جو بھی ملوث ہے اسکے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے۔قیوم آباد کے رہائشیوں نے بھی وزیر اعلیٰ اور آئی جی سندھ سے اپیل کی ہے کہ گرفتار ملزم کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے اور اسے سزائے موت دی جائے اور ملزم کسی رعایت کا مستحق نہیں ہے۔ گرفتار ملزم قیوم آباد میں جلال نامی شخص کے کارخانے میں کام کرتا ہے، پولیس ملزم کے سہولت کاروں کو بھی گرفتار کرے اور انہیں بھی سخت سزا دی جائے۔
