اوپن اے آئی اور انتھروپک کے بعد میٹا کے اے آئی ماڈل نے ٹیسٹنگ کے دوران ایک کمپنی کو ہیک کرلیا

میٹا نے انکشاف کیا ہے کہ اس کے ایک آرٹیفیشل انٹیلی جنس (اے آئی) ماڈل نے سائبر سیکیورٹی کی جانچ کے دوران ایک کمپنی کے سسٹم میں کامیابی سے رسائی حاصل کر لی۔ کمپنی کے مطابق یہ تجربہ اے آئی کی صلاحیتوں اور سیکیورٹی خطرات کو جانچنے کے لیے کیا گیا تھا۔ایسا اس وقت ہوا جب ٹیسٹنگ کرنے والے ایک شراکت دار کی غلطی سے اے آئی ماڈل کو انٹرنیٹ تک رسائی مل گئی۔ہ واقعہ اس وقت سامنے آیا جب گزشتہ دنوں پہلے اوپن اے آئی اور پھر انتھروپک کی جانب سے اعتراف کیا گیا تھا کہ ان کے اے آئی ماڈلز یا ایجنٹس نے ٹیسٹنگ کے عمل کے دوران دیگر کمپنیوں کے سسٹمز ہیک کرلیے تھے۔میٹا کی جانب سے جاری بیان میں بتایا گیا کہ ایسا ایک خودمختار ٹیسٹنگ کمپنی Irregular کی غلطی کی وجہ سے ہوا جس کی جانب سے غیر دانستہ طور پر ایک ماڈل کو انٹرنیٹ تک رسائی فراہم کی گئی اور اب اس واقعے کی تحقیقات کی جا رہی ہے۔یان کے مطابق اس اے آئی ماڈل نے تھرڈ پارٹی سروس کی ایک سکیورٹی کمزوری کا فائدہ اٹھایا۔
اس سے قبل دی انفارمیشن کی ایک رپورٹ میں ذرائع کے حوالے سے بتایا گیا تھا کہ میٹا کو میوس اسپارک 1.1 ماڈل نے ایک کمپنی کے اندرونی سسٹمز کو تبدیل کر دیا تھا۔Irregular کے ایک ترجمان نے بتایا کہ یہ واقعہ بالکل اسی طرح پیش آیا جیسا گزشتہ دنوں انتھروپک نے رپورٹ کیا تھا اور یہ کوئی جامع سائبر اٹیک نہیں تھا۔ترجمان کے مطابق ہم اس حوالے سے ایک وائٹ پیپر تیار کر رہے ہیں تاکہ اے آئی ٹیکنالوجی کے ارتقا کے حوالے سے بہترین اقدامات تجویز کیے جائیں گے۔اس طرح کے واقعات سے عندیہ ملتا ہے کہ اے آئی ماڈلز سائبر سکیورٹی کے لیے خطرہ بن سکتے ہیں اور ڈویلپرز کو اپنے ماڈلز کو کنٹرول میں رکھنے میں مشکلات کا سامنا ہو رہا ہے۔س سے قبل جولائی کے دوسرے عشرے کے آغاز پر اوپن اے آئی نے بتایا تھا کہ اس کے 2 سب سے ایڈوانس اے آئی ماڈلز نے ایک اور کمپنی ہگنگ فیس کو خود اپنے بل پر ہیک کرنے میں کامیابی حاصل کی تھی۔اس موقع پر اوپن اے آئی کا کہنا تھا کہ حال ہی میں متعارف کرائے گئے جی پی ٹی 5.6 سول اور ایک اور ایڈوانس ماڈل جس کو ابھی جاری بھی نہیں کیا گیا، پر مبنی ایک خودکار اے آئی ایجنٹ ٹیسٹنگ کے دوران کنٹرول ماحول سے باہر اوپن انٹرنیٹ تک پہنچا۔بعد ازاں جولائی کے اختتام پر اوپن اے آئی نے ایک بیان میں بتایا کہ ٹیسٹنگ کے دوران اے آئی ایجنٹ اپنے محدود ماحول سے نکل کر انٹرنیٹ سے جڑ گیا اور مختلف ویب سروسز تک رسائی حاصل کرنے کی کوشش کی۔بیان میں مزید بتایا گیا کہ اس حوالے سے تحقیقات کرنے پر اے آئی ایجنٹ نے انٹرنیٹ پر کچھ کمپنیوں کی لاگ ان تفصیلات حاصل کرکے چند اکاؤنٹس تک رسائی حاصل کی۔بعد ازاں ایک اور معروف اے آئی کمپنی انتھروپک نے اعتراف کیا ہے کہ اس کے اے آئی ماڈل کلاڈ نے بھی ایسا ہی کیا ہے۔کمپنی نے بتایا کہ اس کے اے آئی ماڈلز نے ایک اندرونی سکیورٹی تجربے کے دوران خود اپنے طور پر 3 کمپنیوں کے سسٹمز کو ہیک کیا۔ان ماڈلز کو ایک کنٹرول ماحول میں ٹیسٹ کیا جا رہا تھا مگر انہوں نے ایک کمزوری کو تلاش کرکے خود کو انٹرنیٹ سے منسلک کرلیا۔اوپن اے آئی کے اعتراف کے بعد انتھروپک نے جانچ پڑتال کی تھی کہ کیا اس کے ماڈلز نے بھی تو اپنے طور پر کمپنیوں کے سسٹمز ہیک نہیں کیے۔کمپنی کے مطابق ہم نے ایسے 3 کیسز دریافت کیے جن کے بارے میں متاثرہ کمپنیوں کو آگاہ کیا گیا ہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں

twenty − 14 =