ایران؛ احتجاج کے دوران پولیس اہلکاروں کی ہلاکت کے الزام میں افغان شہری کو پھانسی

ایرانی عدلیہ سے وابستہ میزان آن لائن کے مطابق ملزم قائم حسینی کو چار پولیس اہلکاروں کی ہلاکت میں ملوث ہونے کے الزام میں سزائے موت سنائی گئی تھی اور جمعرات کو اسے اصفہان کی مرکزی جیل میں پھانسی دے دی گئی۔ایرانی میڈیا اور عدلیہ نے قائم حسینی کی قومیت سے آگاہ نہیں کیا تاہم اس کیس کو منظر عام پر لانے والی انسانی حقوق کی تنظیموں نے دعویٰ کیا کہ قائم حسینی افغان شہری تھا اور اس کی عمر تقریباً 20 یا 21 سال تھی۔ ایرانی حکام کا کہنا تھا کہ حسینی پر ہتھیار نکالنے، خوف و ہراس پھیلانے، بڑے پیمانے پر بدامنی پیدا کرنے اور قومی سلامتی و امنِ عامہ کو شدید نقصان پہنچانے کے الزامات ثابت ہوئے تھے۔تاہم ایران ہیومن رائٹس نے ان الزامات پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ قائم حسینی پر بنیادی طور پر ایک پولیس اہلکار کو لات مارنے کا الزام تھا اور حکام نے ایسا کوئی ثبوت پیش نہیں کیا جس سے یہ ثابت ہو کہ اس کے اقدام کے نتیجے میں کسی پولیس اہلکار کی موت ہوئی۔اس کیس میں اس سے پہلے ایرانی حکام نے جولائی میں دو افراد، جن میں ایک افغان شہری گل محمد محمدی بھی شامل تھا کو پھانسی دی تھی، جبکہ 28 جولائی کو مزید دو افراد کو اصفہان میں سرِعام پھانسی دی گئی۔ایران کی انسانی حقوق کی تنظیموں کا کہنا ہے کہ اس مقدمے میں مجموعی طور پر کم از کم 12 افراد کو سزائے موت سنائی گئی تھی جس کے باعث دیگر ملزمان کی زندگیوں کو بھی خطرہ لاحق ہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں

3 × two =