ذرائع کے مطابق ٹریک کی خستہ حالی کے باعث ٹرینوں کے ڈی ریل ہونے کے واقعات میں ہوشربا اضافہ ہوا ہے، ہر چند روز بعد مسافر اور مال بردار ٹرینوں کے پٹڑی سے اترنے کے واقعات رپورٹ ہو رہے ہیں۔ذرائع کا کہنا ہے کہ گزشتہ ماہ ٹرینوں کے ڈی ریل ہونے کے درجن سے زائد حادثات رپورٹ ہوئے، جس کے باعث ریلوے آپریشن اور ٹرینوں کے شیڈول بھی بری طرح متاثر ہوئے۔ٹریک کی خراب حالت اور ٹرینوں کے ڈی ریل ہونے کے باعث کراچی، کوئٹہ اور دیگر شہروں سے آنے والی متعدد ٹرینیں گھنٹوں تاخیر کا شکار ہیں۔کراچی سے لاہور آنے والی علامہ اقبال ایکسپریس 6 گھنٹے 40 منٹ، پاک بزنس ایکسپریس 6 گھنٹے 30 منٹ، تیزگام ایکسپریس 3 گھنٹے 30 منٹ، عوام ایکسپریس 2 گھنٹے 20 منٹ، خیبر میل ایکسپریس 2 گھنٹے 15 منٹ جبکہ گرین لائن ایکسپریس ایک گھنٹہ 40 منٹ تاخیر کا شکار ہے۔ٹرینوں کی گھنٹوں تاخیر کے باعث مسافروں کو شدید پریشانی کا سامنا ہے، جبکہ ریلوے ٹریک کی خستہ حالی نے سفر کے محفوظ ہونے سے متعلق انتظامیہ کے دعوؤں پر بھی سوالات اٹھا دیے ہیں۔
