سندھ اسمبلی کا اجلاس سپیکر اویس قادر شاہ کی صدارت میں شروع ہوا، جماعت اسلامی کے رکن محمد فاروق نے لیوی ٹیکس ختم کرنے کی قرارداد پیش کی جسے منظور کر لیا گیا۔صوبائی وزیر داخلہ ضیاء الحسن لنجار نے کہا کہ یہ وفاقی حکومت کا مسئلہ ہے، سندھ حکومت لیوی ٹیکس ختم نہیں کر سکتی، وفاقی حکومت سے مطالبہ کر سکتے ہیں۔قرارداد میں کہا گیا کہ سندھ اسمبلی وفاقی حکومت سے مطالبہ کرتی ہے لیوی ٹیکس ختم کیا جائے، سندھ اسمبلی نے قراداد منظور کر لی۔اپوزیشن لیڈر علی خورشیدی نے کہا کہ اپوزیشن کے کچھ اراکین نے ویڈیو بنائی آپ نے اعتراض کیا، ہمارے اراکین نے معافی نامہ جمع کروایا، حکومتی سائیڈ سے اراکین کی تو کمپین چلتی ہے ایوان سے میرے پاس لسٹ ہے۔علی خوریدی نے کہا کہ ان سب لوگوں سے بھی معافی نامہ منگوائیں، سپیکر اویس شاہ نے کہا کہ قواعد و ضوابط کا مجھے معلوم ہے، ایم کیو ایم کے طحہہ احمد کی پوائنٹ آف آرڈر پر بات کرنے کی کوشش پر سپیکر نے کہا کہ طحہ احمد کی کرسی تبدیل کروائیں شاید تکلیف ہے انہیں بیٹھنے میں۔ایوان میں ایم کیو ایم ارکان نے نعرے بازی کی، ایم کیو ایم ارکان سپیکر ڈائس کے سامنے جمع ہوگئے، سپیکر روسٹرم کے سامنے احتجاج کیا۔
