پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ کیخلاف کیس میں چیف جسٹس پاکستان نے کہاکہ ہمارے سامنے تو صرف آئینی سوالات ہیں،پارلیمنٹ کی نیت کیا تھی یہ تو ہمیں نہیں معلوم،تلوار کے نیچے بھی کلمے پڑھنے پر بات ختم ہو گئی تھی،پارلیمنٹ کی قدر کرتے ہیں اور چاہتے ہیں پارلیمنٹ بھی سپریم کورٹ کی قدر کرے،ہمارا کام ہےپارلیمنٹ اچھے قوانین بنائے تو اس کو سراہیں،پارلیمان کو عزت دیں تاکہ وہ ہمارے فیصلوں پر عمل کریں،قانون اچھا یا برا ہونےپر بحث ہو سکتی ہے۔نجی ٹی وی چینل کے مطابق دوران سماعت جسٹس اعجازالاحسن نے کہاکہ میرا ایک سوال قانون آئینی ہونے اور دوسرا پارلیمان کے اختیار کا تھا،آپ بتائیں کہ ایکٹ کی شقیں کیسے آئین سے متصادم نہیں ہیں؟چیف جسٹس پاکستان نے کہاکہ ایکٹ کی شقوں کو غیرآئینی ثابت کرنے کا بوجھ درخواست گزاروں پر ہے،جسٹس اعجازالاحسن نے کہاکہ آپ کہہ رہے ہیں سپریم کورٹ کیلئے پارلیمنٹ کو قانون سازی کے براہ راست اختیار کی ضرورت نہیں؟اٹارنی جنرل نے کہاکہ سپریم کورٹ کا دائرہ اختیار بڑھانے سے متعلق پارلیمان براہ راست قانون سازی کر سکتی ہے،ہائیکورٹس، فیڈرل شریعت کورٹ سے متعلق پارلیمان کو براہ راست قانون سازی کااختیار نہیں۔جسٹس منیب اختر نے کہاکہ یعنی جو آئینی پابندی ہائیکورٹس، شریعت کورٹ کیلئے ہے وہ سپریم کورٹ کیلئے نہیں؟ جسٹس منصور علی شاہ نے کہاکہ پارلیمنٹ سپریم کورٹ کے اختیارات بڑھا سکتا ہے ، کم یا ختم نہیں کر سکتا،سپریم کورٹ کا دائرہ اختیار بڑھانا تو مثبت چیز ہے۔
