سابق جج شوکت صدیقی برطرفی کیس میں چیف جسٹس پاکستان نے استفسار کیا کہ میرا سوال ہے فوج آزاد ادارہ ہے یا حکومت کے ماتحت ہے؟چیف جسٹس نے حامد خان سےاستفسار کیا کہ حکومت کا سربراہ کون ہوتا ہے؟وکیل حامد خان نے جواب دیا کہ حکومت کا سربراہ صدر ہوتا ہے،چیف جسٹس پاکستان نے کہاکہ صدر کے اختیارات بہت کم ہیں، وہ خود وزیراعظم کی ایڈوائس پر چلتے ہیں.نجی ٹی وی چینل کے مطابق سپریم کورٹ میں سابق جج شوکت صدیقی برطرفی کیس کی سماعت جاری ہے، دوران سماعت چیف جسٹس پاکستان نے حامد خان سے مکالمہ کرتے ہوئے کہاکہ آپ نے بھی کئی بارالیکشن میں حصہ لیا،ہم اپنے سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کی بات کرلیتے ہیں،ایک شخص کو باہر اسی لئے رکھا جاتا ہے تاکہ پسندیدہ امیدوار جیت جائے، ہم نے آپ کو نہیں بلایا ، آپ خود یہاں آئے ہیں۔چیف جسٹس پاکستان نے حامد خان سے مکالمہ کرتے ہوئےکہاکہ اب مرضی ہماری چلے گی،ایسا نہیں ہو سکتا آپ فرد واحد کا کیس لے آئیں اور باقی کسی کا نہ دیکھیں،جب ہمارے پاس آئین ہے تو ہم اس کے مطابق چلیں گے،یہ نہیں ہو سکتا کہ ہمیں کہا جائے یہ کر دیں یا وہ کر دیں،اگر آپ نے یہ کیا تو آئین، عدلیہ اور جمہوریت پر بہت بڑا حملہ ہوگا، اس کا ہم پھر نوٹس لیں گے ، حتمی جگہ پر پہنچائیں گے،میرا سوال ہے فوج آزاد ادارہ ہے یا حکومت کے ماتحت ہے؟چیف جسٹس نے حامد خان سےاستفسار کیا کہ حکومت کا سربراہ کون ہوتا ہے؟وکیل حامد خان نے جواب دیا کہ حکومت کا سربراہ صدر ہوتا ہے،چیف جسٹس پاکستان نے کہاکہ صدر کے اختیارات بہت کم ہیں، وہ خود وزیراعظم کی ایڈوائس پر چلتے ہیں، وفاقی حکومت اور کابینہ ایک شخص نہیں ہے۔
