تاحیات نااہلی کیس میں جسٹس منصور علی شاہ نے اٹارنی جنرل سے استفسار کیا کہ کیا الیکشن ایکٹ میں نااہلی کی مدت آئین سے زیادہ اہم تصور ہو گی؟آرٹیکل 63کی تشریح کا معاملہ ہے،سنگین غداری کرتے تو الیکشن لڑ سکتا جبکہ سول کورٹ معمولی جرائم میں سزایافتہ الیکشن نہیں لڑسکتا۔نجی ٹی وی چینل کے مطابق سپریم کورٹ میں تاحیات نااہلی کیس کی براہ راست سماعت ہوئی،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں 7رکنی بنچ نے سماعت کی،لارجر بنچ میں جسٹس منصور علی شاہ، جسٹس یحییٰ آفریدی، جسٹس امین الدین خان شامل ہیں،جسٹس جمال مندوخیل، جسٹس محمد علی مظہر اور جسٹس مسرت ہلالی بھی بنچ کا حصہ ہیں۔دوران سماعت اٹارنی جنرل نے آئین کا آرٹیکل 62اور63پڑھ کر سنائی،اٹارنی جنرل نے رکن پارلیمنٹ بننے کیلئے اہلیت اور نااہلی کی تمام آئینی شرائط پڑھیں،کاغذات نامزدگی کے وقت سے 62اور 63دونوں شرائط دیکھی جاتی ہیں،انٹری پوائنٹ پر دونوں آرٹیکل لاگو ہوتے ہیں، چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ کچھ شقیں تو حقائق سے متعلق ہیں وہ آسان ہیں،اسلامی تعلیمات کا اچھا علم رکھنا بھی ایک شق ہے، پتہ نہیں کتنے لوگ یہ ٹیسٹ پاس کر سکیں گے۔چیف جسٹس نے کہاکہ نااہلی کی مدت کا تعین آئین میں نہیں، اس خلا کو عدالتوں نے پر کیا،جسٹس منصور علی شاہ نے اٹارنی جنرل سے استفسار کیا کہ کیا الیکشن ایکٹ میں نااہلی کی مدت آئین سے زیادہ اہم تصور ہو گی؟آرٹیکل 63کی تشریح کا معاملہ ہے،سنگین غداری کرتے تو الیکشن لڑ سکتا جبکہ سول کورٹ معمولی جرائم میں سزایافتہ الیکشن نہیں لڑ سکتا۔
