سابق وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار نے بھی تحریک انصاف کو خیرباد کہہ دیا اور مسلم لیگ ضیا ءکے سربراہ اعجاز الحق کیساتھ جا ملے۔ مسلم لیگ ضیاء کے سربراہ اعجاز الحق نے عثمان بزدار کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہاکہ میں ذاتی طور پر سمجھتا ہوں کہ 8 فروری کو الیکشن ہوں گے، عثمان بزدار ، یار محمد رند ، امین اسلم سمیت 25 لوگ ہمارے ساتھ ہیں، پاکپتن ، سیالکوٹ ، خانیوال ، سرگودھا ، راجن پور سمیت دیگر بہت سے علاقوں کے لوگ ہمارے ساتھ ہیں، مزید جماعتوں کے ساتھ رابطے میں ہیں، جلد انہیں بھی شمولیت کی دعوت دوں گا، قومی یکجہتی کے نام سے الائنس بنارہےہیں تاکہ پولرائزیشن ختم کرسکیں۔اعجاز الحق نے کہا کہ اس وقت سب سے اہم تھا کہ پاکستان کو نظریاتی ڈگر پر واپس لائیں، ہم نے سوچا کہ ایسا پلیٹ فارم ہونا چاہیے جو نظریاتی لوگوں کا ہو، جب چارٹر آف ڈیموکریسی ہواتو اسی دن جمہوریت ختم ہوگئی، اس سے یہ تاثر ملا کہ یہاں اب کوئی نظریاتی جماعت نہیں، سب جماعتیں مفادات کی سیاست کر رہی ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہمارا بیانیہ بھی بنے گا ، مشکلات کیا ہیں اس کا حل کیا، مسائل کی نشاہدی بھی کریں گے اور ان کا حل بھی بتائیں گے، مسائل کا حل نکالنے کی بجائے ہم ایک دوسرے کو گالی دیتے ہیں۔اعجاز الحق نے مزید کہا کہ پاکستان کی ترقی ، خوشحالی اور غربت کو دور کرنے کے لیے ہم یہ کرتے ہیں کہ فلاں کو جیل میں ڈال دو ، فلاں کو نکال دو، ماضی میں سیاسی جماعتوں کی قیادت مسائل کا حل نہیں نکال سکیں، پچھلے کوئی ایک ڈیڑھ ماہ سے ہم کچھ دوست آپس میں ملتے رہے ہیں اور کوشش کرتے رہے، جو لوگ آزادانہ یا چھوٹی جماعتوں سے الیکشن لڑنے جارہے ہیں انکو اکٹھا کیا جائے، اس وقت ضرورت بھی ہے کہ وہ لوگ آئیں جو ملک مشکل سے نکالنا چاہتے ہوں، جو لوگ ہمارے ساتھ آنا چاہتے ہیں یا جانا چاہتے ہیں ان کے لئے کوئی روک ٹوک نہیں۔ سربراہ مسلم لیگ ضیاء نے کہا کہ ابھی جماعتیں بیٹھ کر صرف منشور ہی بنارہے ہیں، چارٹرڈ آف ڈیموکریسی کی بات کرنے والے سب سے غلط بات کرتے ہیں، ان کو نہیں پتہ کہ چارٹرڈ آف ڈیموکریسی کی بات کرنے والوں نے نظریات کو ختم کردیا، ی پچھلے 16 ماہ ہم نے دیکھا اس ملک پر کتنی مہنگائی اور چیزوں کا بوجھ ڈال دیا گیا ہے، پھر بھی ملک کی حالات بہتر کرنے کیلئے جن لوگوں نے مداخلت کی انکا کام نہیں تھا، پھر بھی ان سیاسی جماعتوں نے اپنے معاملات ٹھیک کیے عوام کا نہیں سوچا۔ مستقبل کی منصوبہ بندی پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اگلے چند روز میں جمعیت علماء اسلام اوربلوچستان کے لوگوں سے ملنے جارہا ہوں، مرکزی مسلم لیگ سے بھی بات چل رہی ہے، پیر پگاڑا سے بھی جلد ملاقات کرنے جارہا ہوں، قومی یکجہتی الائنس کے نام سے ایک ا لائنس بنارہے ہیں جس میں تمام آزاد لوگوں کو لیں گے تا کہ پولارائزیشن ختم، تاکہ ہم ملک میں مہنگائی کو افراط زر کو ختم کرسکے، اوور سیز پاکستانیوں کو بھی ساتھ لینا چاہتے ہیں، پاکستان میں کوئی انویسٹمنٹ نہیں آرہی، جس پر کام کرنے کی کوشش ہے۔میں ذاتی طور پر سمجھتا ہوں کہ 8 فروری کو الیکشن ہوں گے۔
