دفترِ خارجہ کی ترجمان ممتاز زہرہ بلوچ نے کہا ہے کہ اسرائیل کیخلاف جنوبی افریقہ کے قانونی عمل کو بروقت سمجھتے ہیں، غزہ میں فوری جنگ بندی اورفلسطینیوں کا قتلِ عام رکوانے کا مطالبہ کرتے ہیں۔ہم فلسطین کے دو ریاستی حل پر یقین رکھتے ہیں، ایسا حل جس میں فلسطین کی1967ء سے قبل کی سرحدیں ہوں اور القدس بطور دارالحکومت ہو۔ممتاز زہرہ بلوچ نے کہا کہ نگراں وزیراعظم انوار الحق کاکڑ جلد عالمی اقتصادی فورم کے اجلاس میں شرکت کریں گے۔ پہلی مرتبہ گلوبل ہیلتھ سیکیورٹی کانفرنس اسلام آباد میں ہوئی، کانفرنس میں 70 سے زائد وفود نے شرکت کی، نگراں وزیرِ خارجہ نے مستقبل کے وبائی امراض کے خلاف عالمی شراکت داری پر روشنی ڈالی۔ ترجمان دفتر خارجہ ممتاز زہرہ بلوچ کا امریکہ کی خصوصی تشویش والے ممالک میں شمولیت پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہنا تھا کہ پاکستان نے امریکا کی خصوصی تشویش والے ممالک میں شمولیت پر تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ترجمان نے کہا کہ پاکستان نے ایران میں دہشت گردی کے حملے کی مذمت کی ہے۔پلوامہ کے حوالے سے ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا تھا کہ پلوامہ کا ڈرامہ سیاسی گیم کے لیے کیا گیا تھا، ایک پروفیشنل سفارتکار کی جانب سے ایسا بیان حیران کن ہے، یہ بھارت کی فسطائی ذہنیت کی عکاسی کرتا ہے۔بالاکوٹ بھارت کے لیے ڈراؤنا خواب ثابت ہوا، پاک فضائیہ نے بھارتی طیارے مار گرائے تھے، بھارت عالمی سطح پر جو اہم ذمے داری چاہتا ہے اس کے لیے وہ بالکل تیار نہیں ہے۔بھارت کشمیریوں کے حق خود ارادیت سے انکار کررہا ہے، 70 سال سے بھارت کشمیریوں کے حق خود ارادیت سے انکار کررہا ہے۔ترجمان دفترِ خارجہ نے کہا کہ ورلڈ کپ میں پاکستانی صحافیوں کو بھارت کی جانب سے ویزا نہیں دیا گیا تھا، بھارت کو خاص مواقع پر ویزا دینے سے انکار نہیں کرنا چاہیے۔ترجمان کا مزید کہنا تھا کہ پاراچنار فائرنگ اور مولانا مسعود عثمانی قتل کے واقعات کا وزارت داخلہ بہتر بتاسکتی ہے۔ بھارتی ہائی کمشنر اجے بساریہ کی کتاب نہیں پڑھی، اجے بساریہ کے بیان سے متعلق میڈیا رپورٹس دیکھی ہیں۔
