سنی اتحاد کونسل کے سربراہ صاحبزادہ حامد رضا نے قومی اسمبلی اجلاس میں کہا کہ ختم نبوت میرے ایمان کا اتنا ہی حصہ ہے جتنا آپ کے ایمان کا ہے، ختم نبوت ہر صاحب ایمان کا حصہ ہے۔صاحبزادہ حامد رضا نے کہا کہ آئین پاکستان میں درج ہے احمدی کی عبادت گاہ کو مسجد اور کتاب کو قرآن نہیں کہا جائے گا، ہمیں اطلاع ملی کہ ایک جگہ تحریف شدہ قرآن مجید شائع کیا جا رہا ہے، اس پر ایف آئی آر درج ہوئی اور چھاپہ مارا گیا۔حامد رضا نے کہا کہ غیر مسلم قرآن پاک شائع نہیں کر سکتے، پہلے عدالت نے ملزم کی ضمانت منظور کی، عدالت نے جو کہا وہ قانون ازسرنو تحریر کرنے کا معاملہ ہے۔حامد رضا نے کہا کہ ہم نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی حرمت پر کوئی کمپرومائز نہیں کریں گے، 295 سی حضور اکرم ﷺ کی حرمت ہی نہیں بلکہ تمام انبیاء کی حرمت کی ضمانت دیتی ہے، اللہ پاک نے نبی کریم ﷺ کی حرمت کی ضمانت خود لی ہے، عدالت جو قرآن و سنت کی بے حرمتی کے خلاف قانون کو ری رائٹ کر رہی ہے ہم اس کی مذمت کرتے ہیں، اس حوالے سے ایوان اپنی ذمہ داری پوری کرے، اس حوالے سے ایوان کی کمیٹی بنائی جائے، امید ہے کہ سپیکر ایسی رولنگ دیں گے کہ آپ کی قبر اور آخرت سنور جائے۔جس پر اسپیکر قومی اسمبلی نے کہا کہ اس بارے میں کوئی دو رائے نہیں کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی حرمت ہم سب کو اپنی جان سے بھی پیاری ہے۔۔
