Warning: Undefined array key "geoplugin_countryName" in /home/u381184473/domains/starasiatv.com/public_html/wp-content/plugins/stylo-core/stylo-core.php on line 96
file photo

“عافیہ کیس: امریکی نظام میں مداخلت ناممکن”

اسلام آباد ہائیکورٹ کا ڈاکٹر عافیہ صدیقی کیس پر وفاق سے مکمل بریفنگ طلب – 20 جنوری تک مہلت

اسلام آباد:
اسلام آباد ہائیکورٹ نے ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی صحت، میڈیکل سہولیات اور وطن واپسی سے متعلق کیس میں وفاقی حکومت کو 20 جنوری تک جامع بریفنگ جمع کرانے کا حکم دے دیا۔ سماعت کے دوران ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے مؤقف اپنایا کہ عافیہ صدیقی امریکی شہری ہیں اور ان کی سزا بھی امریکہ میں ہوئی، اس لیے پاکستان امریکی عدالتی نظام میں مداخلت نہیں کر سکتا۔

عدالتی بینچ اور درخواست کا پس منظر

جسٹس ارباب محمد طاہر کی سربراہی میں جسٹس خادم حسین سومرو، جسٹس محمد اعظم خان اور جسٹس انعام امین منہاس پر مشتمل لارجر بینچ نے سماعت کی۔ یہ کارروائی ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی بہن ڈاکٹر فوزیہ صدیقی کی جانب سے دائر درخواست پر ہوئی۔

درخواست گزار کے وکیل عمران شفیق ایڈووکیٹ اور وفاق کی جانب سے ایڈیشنل اٹارنی جنرل راشد حفیظ عدالت میں پیش ہوئے۔ وکیلِ درخواست گزار نے مؤقف اختیار کیا کہ یہ پٹیشن بنیادی طور پر عافیہ صدیقی کی وطن واپسی کے لیے دائر کی گئی ہے۔

بینچ کے استفسارات اور حکومتی مؤقف

جسٹس ارباب محمد طاہر نے ریمارکس دیے کہ اصل درخواست میں وطن واپسی کی استدعا موجود نہیں تھی، حالانکہ پاکستان اور امریکہ کے درمیان مجرمان کی حوالگی کا معاہدہ موجود ہے۔
ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے بتایا کہ کیس میں کئی فارن پالیسی معاملات بھی شامل ہیں اور وفاق نے ہائیکورٹ کے فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کر رکھا ہے، تاہم ابھی تک سماعت مقرر نہیں ہوئی۔

عدالت نے استفسار کیا کہ جب ایک عدالتی حکم پہلے سے موجود ہے تو کیا اسے چیلنج کیا گیا؟ اور یہ بھی واضح کیا کہ عدالتی حکم نہ ماننے پر توہین عدالت کے نوٹس جاری ہوئے تھے۔

میڈیکل سہولیات پر عدالت کی سختی

سماعت کے دوران عدالت نے سوال کیا کہ کیا امریکی حکام نے میڈیکل سہولیات سے متعلق پاکستانی حکومت کے استفسار کا جواب دیا؟
اس پر ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے بتایا کہ امریکہ نے جواب دیا ہے کہ امریکی جیل میں علاج کی سہولیات موجود ہیں، لیکن پاکستانی ڈاکٹرز کو رسائی کی اجازت نہیں ہوگی۔

جسٹس ارباب محمد طاہر نے کہا کہ عدالت اس کیس کو جلد نمٹانا چاہتی ہے، چار ججز کے پاس روزانہ بیٹھنے کا وقت نہیں ہے۔

وفاق کا مؤقف: “امریکی عدالتی نظام میں مداخلت نہیں کرسکتے”

ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے مزید کہا:

  • ویزا پراسیس اور متعلقہ سہولیات فراہم کی جا چکی ہیں۔
  • وفاقی حکومت نے اپنی حدود میں رہتے ہوئے تمام عدالتی ہدایات پر عمل کیا۔
  • امریکہ کی اندرونی عدالتی کارروائی میں مداخلت ممکن نہیں۔
  • ڈاکٹر عافیہ امریکی نیشنل ہیں اور انہیں سزا بھی امریکہ ہی میں سنائی گئی۔

اگلی سماعت 20 جنوری کو مقرر

عدالت نے ہدایت کی کہ وفاقی حکومت کو اس معاملے میں عملی پیش رفت دکھانا ہوگی اور مکمل بریفنگ جمع کرانی ہوگی۔

سٹا ر نیوز لائیو

اپنا تبصرہ بھیجیں

1 × three =