شارجہ ائیرپورٹ پر حکام نے ایک اہم کارروائی کے دوران جعلی برطانوی ویزوں کے حامل 5 پاکستانی شہریوں کو شناخت کر کے فوری طور پر ڈی پورٹ کر دیا۔ اطلاعات کے مطابق یہ مسافر مختلف ایجنٹوں کے ذریعے برطانیہ کا ویزہ حاصل کرنے کی کوشش کر رہے تھے، لیکن امیگریشن سسٹم اور دستاویزات کی باریک بینی سے جانچ کے بعد ان کے ویزے جعلی ثابت ہوئے۔
Sharjah امیگریشن حکام نے مؤثر اسکیننگ ٹیکنالوجی اور دستاویزی تصدیق کے جدید نظام کی بدولت وقت پر جعل سازی کو پکڑا، جس کے بعد تمام مسافروں کو بلیک لسٹ کر کے واپس پاکستان روانہ کر دیا گیا۔ ذرائع کے مطابق، یہ لوگ بھاری رقم ادا کرکے جعلی ویزے حاصل کیے تھے، جبکہ انہیں یقین دلایا گیا تھا کہ یہ ویزے مکمل طور پر مستند ہیں۔
پاکستان میں بھی اعلیٰ حکام نے واقعے پر تشویش کا اظہار کیا ہے اور تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں تاکہ ان ایجنٹوں کے نیٹ ورک تک پہنچا جا سکے جو نوجوانوں کو غیر قانونی راستوں سے بیرون ملک جانے پر مجبور کرتے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ویزا فراڈ کے بڑھتے واقعات نہ صرف مسافروں کو نقصان پہنچاتے ہیں بلکہ بین الاقوامی سطح پر ملک کی ساکھ کو بھی متاثر کرتے ہیں۔
اس واقعے نے ایک بار پھر یہ ثابت کر دیا ہے کہ بیرونِ ملک سفر سے قبل دستاویزات کی خود تصدیق کرنا ضروری ہے، جبکہ حکومت اور اداروں کو چاہیے کہ ایسے جعل ساز گروہوں کے خلاف سخت کارروائی کریں تاکہ شہری محفوظ طریقے سے قانونی سفری راستوں کا استعمال کر سکیں۔
