امریکہ میں امیگریشن نفاذ کے ایک حالیہ آپریشن کے دوران ہونے والے واقعے نے سیاسی ماحول میں شدید بحث چھیڑ دی ہے۔ ایک ڈیموکریٹک رکنِ اسمبلی نے دعویٰ کیا کہ وہ آئی سی ای (Immigration and Customs Enforcement) کے ایک چھاپے کے دوران اس وقت ’’دھکے‘‘ اور ’’پیپر اسپرے‘‘ کا نشانہ بنیں جب وہ مبینہ طور پر صورتِ حال کا جائزہ لینے پہنچی تھیں۔ واقعہ سامنے آتے ہی سوشل میڈیا اور سیاسی حلقوں میں بحث تیز ہو گئی، تاہم ڈی ایچ ایس (Department of Homeland Security) نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے اپنا موقف پیش کیا ہے۔
ڈی ایچ ایس کے مطابق چھاپہ ایک طے شدہ آپریشن کا حصہ تھا اور اس دوران تمام حفاظتی پروٹوکول پر عمل کیا گیا۔ ادارے کا کہنا ہے کہ کسی بھی عوامی نمائندے یا شہری کو جان بوجھ کر نقصان نہیں پہنچایا گیا، اور اگر کوئی ہٹ دھرمی ہوئی، تو وہ ہجوم کی بے قابو صورتِ حال کا نتیجہ ہو سکتی ہے۔
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس نوعیت کے واقعات ملک میں جاری امیگریشن پالیسیوں کے گرد بڑھتی ہوئی تناؤ کی نشاندہی کرتے ہیں۔ ایک جانب قانون ساز چھاپوں میں شفافیت کا مطالبہ کرتے ہیں، وہیں دوسری جانب وفاقی ادارے مؤقف رکھتے ہیں کہ ان کارروائیوں میں رکاوٹ ڈالنا قانون نافذ کرنے کے عمل کو خطرے میں ڈال سکتا ہے۔
اگرچہ واقعے کی مزید تحقیقات جاری ہیں، لیکن یہ تنازع امیگریشن اصلاحات، انسانی حقوق، اور وفاقی اداروں کے اختیارات کے حوالے سے جاری مباحثے کو ایک نیا زاویہ فراہم کر رہا ہے۔
