پاکستان اور افغانستان کے درمیان سرحدی علاقوں میں تازہ جھڑپوں نے خطے میں ایک بار پھر تشویش کی لہر دوڑا دی ہے۔ مقامی ذرائع کے مطابق یہ جھڑپیں اچانک اس وقت شروع ہوئیں جب دونوں جانب سے سیکیورٹی اہلکاروں نے ایک دوسرے کی پوزیشنوں پر فائرنگ کی۔ اس فائرنگ کے نتیجے میں جانی نقصان کی اطلاعات سامنے آئی ہیں، جبکہ سرحدی دیہاتوں میں خوف و ہراس میں اضافہ ہوا ہے۔
سرحدی کشیدگی کوئی نئی بات نہیں، تاہم حالیہ واقعات نے معاملات کو ایک بار پھر حساس بنا دیا ہے۔ پاکستان کا مؤقف ہے کہ اس کے اہلکاروں پر بلااشتعال حملہ کیا گیا، جبکہ افغانستان کی جانب سے دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ فائرنگ کا آغاز دوسری طرف سے ہوا۔ دونوں ممالک کی جانب سے سرکاری سطح پر سخت ردِعمل سامنے آ رہا ہے، اور مذاکرات کے ذریعے صورتحال کو معمول پر لانے کی کوششیں جاری ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ پاک–افغان سرحد پر ہونے والی جھڑپیں نہ صرف علاقائی امن کے لیے خطرہ ہیں بلکہ یہ تجارتی سرگرمیوں اور مقامی آبادی کی روزمرہ زندگی کو بھی متاثر کرتی ہیں۔ خاص طور پر طورخم اور چمن کے قریب سرحدی مقامات پر حالات تیزی سے بدلتے رہتے ہیں، جس کی وجہ سے تجارت، سفری سہولیات اور انسانی امداد کے عمل میں رکاوٹ پیدا ہوتی ہے۔
سیکیورٹی اداروں نے سرحدی علاقوں میں گشت بڑھا دیا ہے جبکہ مقامی رہائشیوں کو احتیاط برتنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق، اگر دونوں ممالک مذاکرات کا راستہ اپنائیں تو خطے میں امن و استحکام دوبارہ قائم کیا جا سکتا ہے۔
