ٹیکساس سے سینیٹ کی نشست کے لیے بائیں بازو کی ایک نمایاں امیدوار نے جب اپنی انتخابی مہم کا باضابطہ آغاز کیا تو سوشل میڈیا پر ردِعمل توقع سے کہیں زیادہ طنزیہ اور ہٹ کے تھا۔ متعدد صارفین نے ان کی تقریر، سیاسی نعرے اور مہم کے انداز کا مذاق اڑاتے ہوئے مختلف تبصروں میں کہا کہ ’’ہنسی رکنے کا نام نہیں لے رہی۔‘‘ اس ردعمل نے نہ صرف امیدوار کی مہم پر سوال کھڑے کیے بلکہ ٹیکساس کی سخت گیر سیاسی فضا کو بھی ایک بار پھر نمایاں کر دیا۔
سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ ٹیکساس ہمیشہ سے قدامت پسند نظریات کا گڑھ سمجھا جاتا ہے، اس لیے بائیں بازو کی کسی طاقتور امیدوار کو یہاں مقبولیت حاصل کرنا پہلے ہی ایک بڑا چیلنج ہوتا ہے۔ مہم کے آغاز میں ہونے والی مزاحیہ تنقید نے اس مشکل کو اور بڑھا دیا ہے۔ مخالفین کا کہنا ہے کہ ان کی پالیسیاں ریاستی ترجیحات سے مطابقت نہیں رکھتیں، جبکہ حمایتیوں کا مؤقف ہے کہ یہ صرف روایتی سیاسی مزاح کا حصہ ہے۔
اس تمام صورتحال کے باوجود امیدوار نے اپنے پیغام میں کسی قسم کی پسپائی نہیں دکھائی۔ انہوں نے کہا کہ ان کی مہم سماجی انصاف، کم آمدنی والے طبقوں کے حقوق اور شفاف جمہوری نظام کی مضبوطی پر مبنی ہے۔ ان کے مطابق تنقید اور مذاق کسی بھی انتخابی مہم کا حصہ ہوتے ہیں، لیکن اصل مقصد عوامی مسائل کو اجاگر کرنا ہے۔
سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق ہنسی مذاق اور تنقید کی یہ لہر سوشل میڈیا کی اس طاقت کو ظاہر کرتی ہے جو آج کی انتخابی سیاست میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ یہ ردعمل وقتی بھی ہو سکتا ہے اور مہم اہم ایشوز پر توجہ مرکوز رکھ کر اپنی گرفت مضبوط بھی کر سکتی ہے۔
ٹیکساس میں سینیٹ کی یہ دوڑ ابھی طویل ہے، اور یہ دیکھنا باقی ہے کہ کیا یہ امیدوار طنز و مزاح سے نکل کر مضبوط سیاسی پوزیشن بنا پائیں گے یا نہیں۔
