انسداددہشتگردی عدالت نے نو مئی کو احتجاج اور توڑ پھوڑ سے متعلق مقدمات میں چیئرمین پی ٹی آئی اور شاہ محمود قریشی کی ضمانت کی درخواستوں پر سماعت پراسیکیوٹر کی عدم دستیابی کے باعث چودہ نومبر تک ملتوی کردی ہے۔تفصیلات کے مطابق انسدادِ دہشتگردی عدالت کے جج ابو الحسنات محمد ذوالقرنین نے چیئرمین پی ٹی آئی اور شاہ محمود قریشی کی نو مئی کے تناظر میں درج مقدمات میں ضمانت کی درخواستوں پر سماعت کی۔ پی ٹی آئی وکلاء خالد یوسف، سردار مصروف اور مرزا عاصم بیگ عدالت میں پیش ہوئے۔ پراسیکیوٹر چھٹی پر ہونے کے باعث عدالت میں پیش نہ ہوئے۔ عدالت نے پراسیکیوٹر کی عدم دستیابی کے باعث چیئرمین پی ٹی آئی کی ضمانت کی درخواستوں پر سماعت 14 نومبر تک ملتوی کردی۔عدالت نے شاہ محمود قریشی کے وکیل علی بخاری سے استفسار کیاکہ اگر چیئرمین پی ٹی آئی کی درخواست کے ساتھ ہی سن لیں تو ٹھیک نہیں؟ وکیل علی بخاری نے مؤقف اپنایا میں تو ابھی تیار ہوں، عدالت مجھ سن کر فیصلہ کر دے۔ اس کیس میں شریک ملزمان کی ضمانتیں ہو چکیں ہیں، ہماری بھی ضمانت ہونی ہے۔ پراسیکیوٹر نے بھی کہا تھا شریک ملزمان کی ضمانتیں کنفرم ہو چکیں ہیں۔ پولیس اگر شاہ صاحب کے خلاف بھی لکھ کر لے آئے تب بھی ضمانت تو کنفرم ہونی ہی ہے۔جج ابو الحسنات محمد ذوالقرنین نے ریمارکس دیئے چیئرمین پی ٹی آئی کی درخواستوں کے ساتھ ہی جیل میں اسے بھی سن لیں گے۔ عدالت نے 14 نومبر کو شاہ محمود قریشی کیس بھی چیئرمین پی ٹی آئی کے ساتھ مقرر کر دیا۔
