پاکستان سے افغان مہاجرین کے جبری انخلا کے عمل میں تیزی آنے کے بعد اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر نے پاکستان سے کہا کہ وہ بین الاقوامی قوانین کا احترام کرے۔ باختر ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے مہاجرین سے ملاقات میں نائب افغان وزیر محکمۀ امور مہاجرین نے کہا گذشتہ 20 دنوں میں تقریباً 23,000 افغان مہاجرین کو پاکستان سے بے دخل کیا گیا جو طورخم اور اسپن بولدک کی سرحدی راستوں سے ملک میں داخل ہوئے۔
نائب وزیر محکمہ امور مہاجرین مولوی عبدالرحمن راشد نے اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے مہاجرین کے سربراہ لیونارڈ زولو سے ملاقات کی اور پاکستان میں افغان مہاجرین کے مسائل پر تبادلہ خیال کیا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت پاکستان غیر قانونی تارکین وطن کو جبری ملک بدر کرنے کا ارادہ رکھتی ہے اور انہیں تقریباً ایک ماہ یا اس سے کم وقت دیا گیا ہے، گزشتہ 20 دنوں کے دوران تقریباً 23 ہزار تارکین وطن کو ڈی پورٹ کیا گیا ہے جو طورخم اور اسپن بولدک بارڈر کے ذریعے وطن واپس لوٹے ہیں۔ امارت اسلامیہ نے لوٹنے والے مہاجرین کی مدد کے لیے چھ وزارتوں کے نمائندوں پر مشتمل ایک کمیٹی تشکیل دے دی ہے۔
مولوی عبدالرحمن راشد نے کہا پاکستان تارکین وطن کو بین الاقوامی قوانین کے خلاف ملک بدر کررہا ہے، ہمیں ڈی پورٹ ہونے والوں کا خیرمقدم کرنا چاہیے اور ہمیں اس سلسلے میں اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے مہاجرین کی مدد اور تعاون کی ضرورت ہے۔ اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے مہاجرین کے سربراہ لیونارڈ زولو نے کہا کہ پاکستان کو مہاجرت کے عالمی قوانین کا احترام کرنا چاہیے، پاکستان میں کمشنری دفاتر کے حکام نے پاکستانی حکام سے بات چیت شروع کر دی ہے، ہمیں اچھے نتائج کی امید ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ تارکین وطن کے امور کی وزارت اور کمشنری کو چاہیے کہ وہ اپنی ضروری تیاریاں اور اقدامات کریں اور سہولیات پیدا کریں، تاکہ واپس آنے والے تارکین وطن اپنی اصل جگہوں پر منظم اور باوقار طریقے سے واپس لوٹیں اور ہمیں مشترکہ طور پر ایکشن پلان پر کام کرنا چاہیے۔ لیو نارڈ زولو نے کہا کہ ہم اس معاملے پر اقوام متحدہ کے دیگر امدادی اداروں سے مشورہ کر رہے ہیں۔ انہوں نے جبری بے دخلی کے مسئلے سے نمٹنے کے لیے سہ فریقی اجلاس کا مطالبہ کیا۔ اس کے ساتھ لیونارڈ زولو نے ایک تکنیکی ٹیم کا قیام ضروری قرار دیا اور کہا کہ ہم جلد ہی وزارت امور مہاجرین کے ساتھ میٹنگ کریں گے۔
