سرمائی اجلاس کے پہلے دن لوک سبھا میں اہم قانون سازی عمل میں آئی، جس کے دوران منی پور جی ایس ٹی بل متفقہ طور پر منظور کیا گیا۔ اس بل کا بنیادی مقصد ریاست میں ٹیکس کے نفاذ کو ہم آہنگ کرنا، ریونیو کے بہاؤ کو شفاف بنانا اور کاروباری برادری کے لیے مؤثر مالیاتی فریم ورک تشکیل دینا ہے۔ جی ایس ٹی کے نئے ڈھانچے سے منی پور میں تجارتی سرگرمیوں کو سہولت ملے گی اور ریاستی سطح پر ٹیکس وصولی کی کارکردگی میں بہتری متوقع ہے۔
اسی اجلاس میں وزیر خزانہ نے تمباکو پر عائد لیوی اور ٹیکسز کو ری پرپز (Re-purpose) کرنے سے متعلق بل بھی ایوان میں پیش کیے۔ ان بلز کا بنیادی مقصد تمباکو مصنوعات پر موجودہ ٹیکس اسٹرکچر کو جدید تقاضوں کے مطابق ڈھالنا ہے تاکہ پبلک ہیلتھ کے اہداف، ریونیو جنریشن اور غیر قانونی تجارت پر قابو پانے میں مؤثر کردار ادا کیا جا سکے۔ حکومت کا مؤقف ہے کہ تمباکو سے متعلق ٹیکس پالیسیوں کو عوامی مفاد اور صحت کے شعبے کی ضروریات کے مطابق ازسرنو ترتیب دینا ناگزیر ہو چکا ہے۔
پارلیمانی ماہرین کے مطابق سرمائی اجلاس کے پہلے دن ہونے والی قانون سازی مثبت پیش رفت ہے، اور آنے والے دنوں میں مزید مالیاتی اور پالیسی اصلاحات پر بحث متوقع ہے۔ اپوزیشن نے دونوں بلوں کے کچھ پہلوؤں پر سوالات اٹھائے ہیں، تاہم حکومت کا کہنا ہے کہ یہ اقدامات ریاستی معیشت کو مستحکم بنانے اور صحت کے شعبے کو بہتر بنانے کے لیے ضروری ہیں۔
سرمائی اجلاس کی اس پیش رفت نے نئے سیاسی مباحثے کو بھی جنم دیا ہے، خاص طور پر جی ایس ٹی اصلاحات اور تمباکو ٹیکس کے ضمن میں۔ ماہرین کے مطابق یہ قوانین مستقبل میں ٹیکس پالیسیوں کے مجموعی منظرنامے پر گہرا اثر ڈال سکتے ہیں۔
