وینیزویلا کے بحران میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایک مشکل صورتحال سے دوچار ہیں، کیونکہ صدر نیکولس مادورو اپنی پوزیشن پر جمے ہوئے ہیں اور امریکی حکومت کے دباؤ کے باوجود سیاسی مذاکرات میں پیچھے ہٹنے کا ارادہ نہیں رکھتے۔ داخلی سیاست میں ٹرمپ پر ممکنہ ‘جنگی جرم’ کے الزامات کی وجہ سے شدید دباؤ ہے، جو ان کی خارجی پالیسی کے فیصلوں کو مزید پیچیدہ بنا رہا ہے۔
ماہرین کے مطابق وینیزویلا میں امریکی مداخلت کے امکانات اور مادورو کی سخت پوزیشن کے درمیان توازن پیدا کرنا ایک بڑا چیلنج ہے۔ صدر ٹرمپ نے وینیزویلا کی حکومت کو انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے الزامات کی روشنی میں دباؤ ڈالنے کی کوشش کی، مگر مادورو نے اپنی پوزیشن مستحکم کر رکھی ہے۔
واشنگٹن میں سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ اگر امریکی حکومت نے سخت کارروائی کی تو یہ بین الاقوامی سطح پر قانونی اور اخلاقی مسائل پیدا کر سکتی ہے، اور صدر ٹرمپ پر امریکی پارلیمنٹ اور میڈیا کی جانب سے شدید تنقید کا خطرہ ہے۔ اس دوران داخلی سیاست میں بھی مخالفین نے ممکنہ جنگی جرائم کے الزامات کو ہتھیار کے طور پر استعمال کرنا شروع کر دیا ہے، جو صدر کے سیاسی مستقبل کے لیے خطرناک ہو سکتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ٹرمپ کو چاہیے کہ وہ بین الاقوامی دباؤ اور داخلی سیاسی رکاوٹوں کو مدنظر رکھتے ہوئے ایک متوازن اور قانونی پالیسی اپنائیں، تاکہ نہ صرف وینیزویلا بحران میں بہتری آئے بلکہ امریکہ میں سیاسی بحران بھی بڑھنے سے بچ سکے۔
وینیزویلا اور امریکی سیاست کے اس پیچیدہ مسئلے پر عالمی نگاہیں مرکوز ہیں، اور آنے والے ہفتوں میں صدر ٹرمپ کے فیصلے عالمی اور ملکی سیاست میں اہم اثر ڈال سکتے ہیں۔
