اغوا برائے تاوان کے ملزم سابق ایس ایچ او شعیب شوٹرنے جناح ہسپتال میں ’پناہ‘ لے لی اور عدم پیشی پر فاضل عدالت نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے استفسار کیا کہ کون سی بیماری تھی کہ اجازت کے بغیر شعیب شوٹر کو جناح ہسپتال منتقل کیا، عدالت نے ڈائریکٹر جناح ہسپتال سے ملزم کی تفصیلی میڈیکل رپورٹ طلب کرلی۔رپورٹ کے مطابق انسداد دہشت گردی عدالت نے سابق ایس ایچ او سچل شعیب شوٹر کو اجازت لیے بغیر جناح اسپتال منتقل کرنے پر برہمی کا اظہار کیا۔ عدالتی حکم پر جیل کے چیف میڈیکل آفیسر اور سپرنٹنڈنٹ جیل عدالت میں پیش ہوئے۔ عدالت نے دوران سماعت دونوں افسران پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے استفسار کیا کہ ایسی کیا بیماری ہے جو ملزم کو جیل اسپتال کے بجائے جناح اسپتال منتقل کیا گیا؟عدالت نے شعیب شوٹر کا میڈیکل ریکارڈ 3 دن میں پیش کرنے کا حکم دیا۔ سرکاری وکیل کا کہنا تھا کہ ملزم شعیب شوٹر کے خلاف شہری محمد شریف کے اغوا برائے تاوان کا مقدمہ درج ہے۔ 2014 میں اسکاؤٹ کالونی میں چائے کے ہوٹل سے محمد شریف کو پولیس اہلکاروں نے اٹھایا تھا۔بیٹے کے اغوا پر سندھ ہائی کورٹ سے رجوع کرنے پر شعیب شوٹر نے اہل خانہ سے رابطہ کیا۔ آج نیوز کے مطابق محمد شریف کی رہائی کے لئے اہل خانہ سے ملزم نے 5 لاکھ روپے تاوان بھی طلب کیا تھا۔ واقعہ کا مقدمہ تھانہ مبینہ ٹاؤن میں درج کیا گیا تھا۔ شعیب شوٹر کے خلاف نقیب اللہ محسود کے قتل کا مقدمہ بھی درج ہے۔
