انتظامیہ کی غفلت، کراچی میں ایک اور بچی کھلے مین ہول میں گر گئی
کراچی میں بلدیاتی اداروں کی مسلسل غفلت کے باعث ایک اور افسوسناک واقعہ پیش آیا، جہاں ایک کمسن بچی کھلے مین ہول میں گر کر شدید زخمی ہو گئی۔ واقعہ شہر کے ایک مصروف علاقے میں اس وقت پیش آیا جب اہل محلہ نے مین ہول کو کئی دنوں سے بغیر کور کے چھوڑے جانے پر متعدد بار شکایت کی تھی، مگر متعلقہ اداروں کی جانب سے کوئی عملی اقدام نہیں اٹھایا گیا۔
عینی شاہدین کے مطابق بچی گلی میں کھیل رہی تھی کہ اچانک اس کا پاؤں پھسل گیا اور وہ سیدھی مین ہول میں جا گری۔ اہل محلہ نے موقع پر پہنچ کر اسے نکالا اور اسپتال منتقل کیا، جہاں اسے طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔ اس حادثے نے علاقے میں خوف اور غم و غصے کی لہر دوڑا دی ہے، کیونکہ یہ کوئی پہلا واقعہ نہیں بلکہ شہر میں ایسے کئی واقعات پہلے بھی رپورٹ ہو چکے ہیں۔
شہریوں کا کہنا ہے کہ کھلے مین ہول نہ صرف بچوں بلکہ بزرگوں اور موٹر سائیکل سواروں کے لیے بھی مستقل خطرہ بن چکے ہیں۔ متعدد علاقوں میں سیوریج کے ڈھکن چوری ہو جاتے ہیں جبکہ بلدیاتی ادارے انہیں بروقت تبدیل کرنے میں ناکام رہتے ہیں۔
ماہرین شہری منصوبہ بندی کے مطابق یہ مسئلہ انتظامی لاپروائی اور ناقص نگرانی کا نتیجہ ہے، جسے مستقل حل کی ضرورت ہے۔ شہری حلقے مطالبہ کر رہے ہیں کہ ذمہ دار افسران کے خلاف کارروائی کی جائے اور شہر بھر میں کھلے مین ہولز کی فوری نشاندہی اور مرمت کی جائے تاکہ مزید حادثات کو روکا جا سکے۔
