ایک بیان میں ترجمان ایرانی وزارت دفاع جنرل رضا طلائی نے کہا کہ 1979ء سے پہلے ایران کی دفاعی پیداوار صرف 31 سادہ نوعیت کی اشیاء تک محدود تھی جن میں غیر ملکی جی تھری رائفلوں کی سمبلنگ بھی شامل تھی۔انہوں نے کہا کہ آج یہ صورتحال مکمل طور پر تبدیل ہو چکی ہے اور ایران جامع دفاعی صنعت رکھنے والا ملک بن گیا ہے، اب مقامی سطح پر صرف بنیادی فوجی سامان ہی نہیں بلکہ بیلسٹک میزائل، ڈرونز، فضائی دفاعی نظام، ریڈار، فوجی الیکٹرانکس اور بھاری گولا بارود بھی تیار کیا جا رہا ہے۔جنرل راضا طلائی نے مزید بتایا کہ میزائل کے شعبے میں ایران اب دنیا کی 10 بڑی طاقتوں میں شامل ہے، شہاب، قدر، عماد، قیام، ذوالفقار، خرمشہر، سجیل اور خیبر شکن جیسے میزائلوں کے کئی ورژن تیار کیے جا چکے ہیں۔
